لاہور:234 غیر ملکی زیر حراست | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں پولیس نے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی باشندوں کے خلاف ایک آپریشن شروع کر رکھا ہے اور اڑھائی ہفتہ کے دوران دو سو چونتیس افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ جن لوگوں حراست میں لیا گیا ہے ان کے خلاف امیگریشن کے قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ حکام کے مطابق بعض زیر حراست افراد کے سلسلے میں ان کے سفارتخانوں سے بھی رابطہ کیا جائے گا اور انہیں ملک سے نکالنے کے انتظامات کیے جائیں گے۔ ایس ایس پی آپریشن لاہور آفتاب چیمہ نے بتایا کہ گرفتار ہونے والوں میں سے نصف کے قریب کو جیل بھجوا دیا گیا ہے اور کچھ نے اپنی ضمانتیں کرا لی ہیں جب کہ کچھ کو ان کے سفری کاغذات دیکھنے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے تاہم کچھ ایسے بھی ہیں جن سے ابھی تفتیش کی جارہی ہے۔ حکام کے مطابق ان گرفتاریوں کی زد میں وہ لوگ آرہے ہیں جن کے پاس ویزے نہیں ہیں، ویزے زائد المعیاد ہوچکے ہیں، یا ان کے پاس ویزہ تو صرف وفاقی دارالحکومت کا تھا لیکن وہ لاہور میں قیام پذیر تھے یا پھر وہ تعلیمی ویزے پر لاہور مقیم ہیں لیکن ان کا کسی تعلیمی ادارے میں کوئی باقاعدہ داخلہ نہیں ہے۔ پولیس کی مخلتف ٹیمیں شہر بھر میں مختلف مقامات پر غیر ملکیوں کی گرفتاریوں کے لیے چھاپے مار رہی ہے اور خاص طور پر ریلوے سٹیشن لاری اڈے کے نزدیکی ہوٹلوں کی تلاشیاں لی جا رہیں ہیں ۔ لاہور کے میسن روڈ سے بھی چند گرفتاریاں ہوئی ہیں۔گرفتار ہونے والوں میں مخلتف اقوام کے لوگ شامل ہیں لیکن زیادہ تعداد افریقی ممالک کے باشندوں کی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ان افراد کی گرفتاری کے بعد ان سے پوچھ گچھ بھی کی جاتی ہے اور اس بات کا پتہ چلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کہیں ان میں سے کسی کا تعلق کسی شدت پسند تنظیم سے تو نہیں ہے؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||