BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 May, 2004, 15:16 GMT 20:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غیر ملکی اندراج پر راضی ہو گئے

News image
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود مبینہ طور پر القاعدہ کے غیر ملکی ارکان اپنا انداراج کرانے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔

جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں بدھ کو منعقد ہونے والے ایک جرگہ میں قبائلی جنگجو نیک محمد اور ان کے ساتھیوں نے اعلان کیا کہ حکومت کی عام معافی کے جواب میں غیر ملکیوں نے اپنے ناموں کا اندارج کرانے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ القاعدہ کے مشتبہ غیرملکی اراکین کے اندراج کے سلسلے میں پیش رفت ہوئی ہے۔

البتہ وہ قبائلی جنگجو نیک محمد کے آج کے اعلان کے بارے میں تفصیلات کا انتظار کر رہے ہیں۔

جنوبی وزیرستان میں گزشتہ کئی ماہ سے القاعدہ کے مشتبہ غیرملکی اراکین کے اندراج کے مسئلہ پر فوج اور قبائلی جنگجوؤں کے درمیان کشمکش جاری تھی۔

نیک محمد کا کہنا تھا کہ وہ اندراج کے سلسلے میں حکومت کی مکمل مدد کرنے کو تیار ہیں۔

انہوں نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ یہ عمل جمعہ کے روز سے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی موجودگی میں شروع کر دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اندراج کا یہ کام ایک قبائلی سردار ملک خانزادہ کے گھر پر شروع ہوگا۔

بدھ کو منعقد ہونے والے میں اراکین قومی اسمبلی مولانا عبدالمالک اور مولانا معراج الدین اور قبائلی عمائدین بھی شریک تھے۔

البتہ کئی بار کوششوں کے باوجود مولانا عبدالمالک نے بی بی سی سے اس مسلہ پر بات کرنے سے انکار کر دیا۔

کئی روز تک اندراج کی مخالفت کے بعد نیک محمد کے اس پر اچانک راضی ہونے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔

اس اعلان پر سرکاری اور عوامی سطحوں پر مسرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اپنے سرکاری ردعمل میں قبائلی علاقوں میں سلامتی امور کے نگران محمود شاہ کا کہنا تھا کہ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اس کی تفصیلات ابھی معلوم کی جا رہی ہیں جس کے بعد ہی انہیں حتمی شکل دی جائے گی۔

اس سے قبل حکومت اور غیرملکیوں کے درمیان اندراج کے معملے پر مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے تھے۔ منگل کے روز احمدزئی وزیر قبیلے نے القاعدہ کے مشتبہ غیرملکی ارکان کے خلاف کارروائی کے لئے دو ہزار مسلح افراد پر مشتمل لشکر کی تشکیل کو ملتوی کر دیا تھا۔

اس کی وجہ قبائلی سرداروں کی جانب سے مسئلہ کے حل کے لئے بظاہر آخری کوشش کے طور پر مذاکرات کا نیا سلسلہ شروع کرنا تھی جو بظاہر اب کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد