’جنرل مشرف پر چھ حملوں کی کوشش‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے ایک میگزین میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف پر مارچ 2002 سے اب تک چھ مرتبہ قاتلانہ حملے ہوچکے ہیں۔ کراچی سے شائع ہونے والے میگزین ’ہیرالڈ‘ کی رپورٹ میں فوجی تفتیش کاروں کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان چھ بڑی کوششوں کے علاوہ کچھ ایسے شدت پسند افراد نے شائد کئی ’غیر منظم کوششیں‘ بھی کی ہوں اور یہ افراد یا تو ہلاک کئے جا چکے ہیں یا پھر زیر حراست ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کچھ کوششیں سیکورٹی کے سخت انتظامات کی وجہ سے ناکام ہوئیں جبکہ کچھ واقعات میں ایسی پریڈیں جن میں جنرل مشرف نے شرکت کرنا تھا منسوخ کردی گئیں۔ جنرل مشرف پر دسمبر 2003 میں دہرا قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس میں سترہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
ہیرالڈ کی رپورٹ کے مطابق ان حملوں کی منصوبہ بندی میں سب سے زیادہ احمد عمر سعید شیخ ملوث تھے جو امریکی صحافی ڈینئیل پرل کے قتل میں سزا پا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ تفتیش کاروں نے اس ماہ کی چار تاریخ کو لیبیا کے شہری ابو فراج اللبی کے ان سازشوں میں ملوث ہونے کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ تفتیش کاروں کے مطابق ان ’ماسٹر مائینڈز‘ کی طرف سے بنایا جانے والا نیٹ ورک شائد فوج کی نچلی سطح کے حلقوں میں سرایت کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ ان حملوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں اس وقت ایک خاتون سمیت نو افراد کو مقدمات کا سامنا ہے۔ ان افراد میں سے ایک شخص کا تعلق فوج سے ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان نو افراد میں سر فہرست راشد قریشی اور ارشد محمود کا نام ہے جنہوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ راولپنڈی کینٹونمنٹ کی حدود میں فوجیوں کو جہاد کرنے کےلئے تبلیغ کی۔ ان دونوں پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے ایک سعودی عالم کے فتوے کی بنیاد پر ایبٹ آباد میں سپیشل سروسز گروپ کے آٹھ فوجیوں کو جنرل مشرف کو قتل کرنے کے لئے بھی اکسایا۔
میگزین کے مطابق جنرل مشرف پر ہونے والے حملے کی تفتیش کی تفصیلات تک اسے حال ہی میں رسائی حاصل ہوئی ہیں۔ میگزین کی رپورٹ کے مطابق جنرل مشرف پر پہلے قاتلانہ حملے کی کوشش 2002 میں اس وقت ہوئی جب 23 مارچ کی پریڈ کے موقع پر ان پر کلاشنکوف اور گرنیڈوں سے حملے کا منصوبہ بنایا گیا۔ ہیرالڈ کے مطابق اس حملے کی منصوبہ بندی کے لئے اسلام آباد میں اکتوبر 2001 میں احمد عمر سعید شیخ، شدت پسند سنی گروپ لشکر جھنگوی کے سربراہ امجد فاروقی اور راشد قریشی کے درمیان ایک میٹنگ ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق عمر سعید شیخ نے اس منصوبے کے لئے ہتھیار اور اخراجات کا انتظام کیا۔ رپورٹ میں فوجی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ شائد اس میٹنگ میں بیس افراد نے شرکت کی ہو جس کی وجہ سے ان کا خیال ہے کہ جنرل مشرف پر قاتلانہ حملے کا خطرہ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ تئیس مارچ کی پریڈ پر مبینہ قاتلانہ حملے کے منصوبے کو اس وقت منسوخ کردیا گیا جب پریڈ ہی محرم کی وجہ سے منسوخ کردی گئی تھی۔ اس کے بعد 6 دسمبر 2002 کو جنرل مشرف کو اسلام آباد میں فیصل مسجد میں عید کی نماز پڑھنے کے موقع پر ایک خود کش حملے کے ذریعے نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ لیکن تفتیش کاروں کے مطابق حملہ آور سخت سیکورٹی کی وجہ سے جنرل مشرف کے قریب جانے میں ناکام رہے۔ تیسری کوشش میں 23 مارچ 2003 کو ہونے والی پریڈ کو میزائیل سے نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا گیا۔ ہیرالڈ کی رپورٹ کے مظابق اس سلسلے میں چار میزائیل راولپنڈی پہنچا دئیے گئے تھے لیکن ایک بار پھر پریڈ کو سیکورٹی وجوہات کی بنا پر منسوخ کردیا گیا۔ اس کے بعد عمر سعید شیخ کی گرفتاری کے بعد امجد فاروقی نے کئی مرتبہ حملوں کی کوشش کی۔ کراچی میں جنرل مشرف کی گاڑی میں لگے ہوئے جیمنگ آلات کی وجہ سے آتش گیر مادے سے بھری ہوئی ایک کار وقت پر پھٹنے میں ناکام رہی۔ اس کے بعد 2003 دسمبر میں جنرل مشرف پر دو مزید حملے کئے گئے جو ناکام رہے۔ میگزین کے مطابق جہادی عناصر کی طرف سے مسلسل حملے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ جنرل مشرف کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ان گروپوں میں پاکستان کی فوج میں سرایت کر جانے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔ تاہم رپروٹ کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ایسے عناصر فوج میں کس حد تک سرایت کر چکے ہیں اور اسی لئے یہ بات حکام کے لئے مسلسل پریشانی کا باعث ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||