ابو فراج اللبی امریکہ کے حوالے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ القاعدہ کے رہنما ابو فراج اللبی کو امریکہ کے حوالے کر رہے ہیں اور شاید انہیں امریکہ کے حوالے کردیا گیا ہے۔ یہ بات انہوں نے منگل کی رات کو ’سی این این‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی ہے۔ ابو فراج اللبی کے بارے میں وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے کہا تھا کہ وہ صدر جنرل پرویز مشرف پر دسمبر سن دو ہزار تین اور گزشتہ سال وزیراعظم پر ہونے والے ناکام جان لیوا حملوں میں بھی ملوث ہیں۔ دو مئی کو صوبہ سرحد کے شہر مردان سے گرفتاری کے بعد ابو فراج سے پاکستانی حکام نے پوچھ گچھ کی ہے اور اس وقت وزیر داخلہ اور وزیر اطلاعات دونوں نے کہا تھا کہ نہ تو امریکہ نے ابو فراج کو ان کے حوالے کرنے کا کہا ہے اور نہ پاکستان ایسا کرے گا۔ ابو فراج امریکی ادارے ’ایف بی آئی‘ کی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں بھی شامل نہیں ہے لیکن پھر بھی امریکہ نے اسے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ اس بارے میں صدر جنرل پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ وہ ان پر حملوں کے سرغنہ ہیں لیکن ابو فراج ’بہت بڑے، معاملات میں ملوث ہے اس لیے امریکہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور ان کا ٹرائل بعد میں کریں گے۔ تاہم صدر نے یہ بھی کہا کہ ’ہم اسے پاکستان میں رکھنا نہیں چاہتے‘۔ ایک سوال پر صدر نے بتایا کہ القاعدہ کے رہنماؤں کا آپس میں ’کوریئر‘ کے ذریعے رابطہ ہے اور ابو فراج نے اسامہ بن لادن کی موجودگی کے بارے میں کوئی مفید معلومات نہیں دی۔ جب ان سے افغان صدر حامد کرزئی کے اس بیان کے بارے میں پوچھا گیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بن لادن پاکستان میں ہیں تو صدر نے کہا کہ یہ تو بیان ہے اور وہ بھی یہ بیان دے سکتے ہیں کہ بن لادن افغانستان میں ہے لیکن انہوں نے ایسا کبھی نہیں کہا۔ واضح رہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں تعاون کے سلسلے میں تا وقت پاکستان تقریباً سات سو افراد کو القاعدہ سے تعلقات کے شبہے میں گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کر چکا ہے۔ جن میں سے درجنوں افراد کئی ماہ تک امریکی قید میں رہنے کے بعد واپس پاکستان بھی پہنچ گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||