’اللبی سے نئی معلومات ملی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
القاعدہ کے حال ہی میں گرفتار ہونے والے سرکردہ رہنما ابو فراج اللبی نے دوران تفتیش بات کرنا شروع کر دیا ہے اور اس ضمن میں وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کا کہنا ہے کہ ’اللبی سے خاصی نئی معلومات ملی ہے اور اس سے بہت جلد وہ میڈیا کو آگاہ کردیں گے۔‘ یہ بات انہوں نے بدھ کے روز یونان کے ساتھ دہشت گردی، منظم جرائم، منشیات اور انسانی سمگلنگ کی روک ھام کے لیے دوطرفہ تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کے بعد صحافیوں سے بات چیت کے دوران بتائی۔ وزیرداخلہ نے ایک سوال کے جواب میں تصدیق کی کہ ابو فراج صدر جنرل پرویز مشرف پر ہونے والے دو بم حملوں کے علاوہ وزیراعظم شوکت عزیز پر ہونے والے خود کش بم حملے میں ملوث ہے۔ قبل ازیں آفتاب احمد خان شیرپاؤ اور ان کے یونانی ہم منصب جیارج وولگراکس نے دو طرفہ تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے بتایا کہ پاکستان اور یونان کے علاوہ ترکی اور ایران کے وزراء داخلہ سے بھی رابطہ کیا جائے گا تاکہ چاروں ممالک انسانی سمگلنگ کو روکنے کے لیے مؤثر مشترکہ اقدامات اٹھا سکیں۔ ان کے مطابق زیادہ تر پاکستانی غیر قانونی طریقے سے یونان جانے کے لیے زمینی راستہ اختیار کرتے ہیں اور ایران کے بعد ترکی سے ہوتے ہوئے یونان میں داخل ہوتے ہیں اس لیے ان ممالک کی سرحدوں پر اقدامات سخت کرنا ضروری ہیں۔ ایک سوال پر یونان کے وزیر نے بتایا کہ ان کے ملک میں کم از کم ستر ہزار پاکستانی رہتے ہیں اور انہیں قانونی حیثیت دینے کے لیے ان کی حکومت کوشش کر رہی ہے۔ وزیر نے مزید بتایا کہ گزشتہ سال اکسٹھ اور رواں سال تراسی پاکستانیوں کو یونان نے ملک بدر کیا ہے۔ ان کے مطابق اب بھی کچھ پاکستانی شہری یونان کی جیلوں میں ہیں لیکن ان کی درست تعداد کا انہیں علم نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کہا کہ یونان کے ساتھ ملزمان کے تبادلے کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے اور نہ ہی بدھ کے روز ہونے والے معاہدے میں کوئی ایسی شق شامل ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||