’ایک ہفتہ: 22 شدت پسندگرفتار‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب احمد شیرپاؤ نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے میں ملک بھر سے تقریباً بائیس انتہا پسندوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ القاعدہ کے مبینہ رہنما ابو فراج اللبی کی گرفتاری سے دہشت گردی کا خطرہ ٹلا نہیں ہے کیونکہ ملک میں اب بھی غیر ملکی انتہا پسند موجود ہیں۔ اسلام آباد میں ایک سڑک کی افتتاحی تقریب کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے بتایا کہ ابو فراج سے تحقیقات جاری ہیں مگر وہ اس سلسلے میں کچھ بتا نہیں سکتے۔ انہوں نے ابو فراج کے ساتھ تحقیقات کے بارے میں چھپنے والی اخباری خبروں کو افواہوں پر مبنی قرار دیا۔ انہوں نے ملک میں ہونے والی گرفتاریوں کو ابو فراج کی گرفتاری سے جوڑنے سے انکار کیا اور کہا کہ یہ انتہا پسند الگ گروہوں کی صورت میں کام کرتے ہیں۔ وفاقی وزیر کے مطابق ابو فراج کا بھی اپنا الگ گروپ تھا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اب بھی غیر ملکی انتہا پسند حکومت کی طرف سے معافی کی پیشکش کو قبول کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیشکش وزیرستان میں موجود غیر ملکی انتہا پسندوں کو بھی کی گئی تھی مگر انہوں نے اس کو قبول نہیں کیا جس کے بعد حکومت کو وہاں آپریشن کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان غیر ملکی انتہا پسندوں کا پیچھا کرے گی اور ان کو پکڑے گی۔ اس سوال پر کہ ابو فراج کی گرفتاری سے کیا ملک میں دہشت گردی کا خطرہ ختم ہو جائے گا، وزیر داخلہ نے کہا کہ ابو فراج القاعدہ کے نمبر تین رہنما تھے اور ان کی گرفتاری قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ حکومت نے بیس کے لگ بھگ دہشت گرد گروہوں کو پکڑا ہے مگر جب تک پورے ملک سے ان غیر ملکی انتہا پسندوں کا خاتمہ نہیں ہوتا دہشت گردی کا خطرہ موجود رہے گا۔ انہوں نے ان اخباری اطلاعات سے لاعلمی کا اظہار کیا جن کے مطابق حکام نے گزشتہ روز دو غیر ملکیوں سمیت چھ انتہا پسندوں کو گرفتار کیا ہے جن میں دو غیر ملکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باجوڑ اور لاہور میں گرفتار ہونے والے انتہا پسندوں کی گرفتاری کا ابوفراج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف پر حملے کے ملزم مشتاق احمد کی جن کا تعلق ائرفوس سے بتایا جاتا ہے، گرفتاری کو ابو فراج کے ساتھ جوڑنے سے انکار کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||