BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 May, 2005, 04:25 GMT 09:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومت بات چھپا کیوں رہی ہے؟

News image
ابو فراج مشرف پر خود کش حملے میں شامل افراد کے سرغنہ بتائے جاتے ہیں
اگرچہ پاکستانی حکام گرفتار کئے جانے والے لیبیا کے باشندے ابو فراج کو ایک بڑی کامیابی اور القاعدہ کے نمبر تین رہنما کے طور پر پیش کر رہے ہیں، لیکن کیا وہ واقعی اتنا اہم تھا یا یہ اہمیت صرف پاکستان تک محدود تھی۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ میں اگر گزشتہ کچھ عرصے میں سامنے آنے والے پاکستانی اور امریکی حکومتوں کے انتہائی مطلوب افراد کے اشتہارات کا بغور مطالعہ کیا جائے تو صورتحال مختلف نظر آتی ہے۔

حکومت پاکستان کا اگست دو ہزار چار میں اخبارات میں شائع ہونے والے’انتہائی مطلوب افراد‘ کے عنوان سے شائع اشتہار میں پہلے نمبر پر ابو فراج اللبی کا نام ان کی تصویر کے ساتھ شائع کیا گیا تھا۔

ابو فراج کی گرفتاری پر حکومتِ پاکستان کی طرف سے دو کروڑ روپے کا انعام مقرر کیا گیا تھا۔ جب کے امریکہ نے ان کے سر کی قیمت پچاس لاکھ ڈالر مقرر کی ہوئی ہے۔

ابو فراج مبینہ طور پر صدر جنرل پرویز مشرف پر خود کش حملے میں شامل افراد کے سرغنہ بتائے جاتے ہیں۔

ان کے ساتھ چند دیگر مبینہ دہشت گردوں کی تصاویر اور معلومات بھی شائع کی گئیں جو سب کے سب پاکستانی تھے۔

اس کے برعکس پاکستان میں اخبارات میں شائع ہونے والے امریکی اشتہارات میں ان کا ذکر نہیں۔ ان اشتہارات میں اسامہ بن لادن اور ایمن الزواہری کے بعد تیسرے نمبر پر مصطفی سیت مریم نصر کا نام ہے جن کی گرفتاری کی اطلاع پر پچاس لاکھ کا انعام ہے۔

اس کے علاوہ اس اشتہار میں دیگر مطلوب افراد میں طالبان رہنما ملا محمد عمر، عدنان جی الشکریجوماہ، مدحت مرسی السید عمر احمد محد حامد علی جیسے قدرے ناشناس نام شامل ہیں۔ ملا محمد عمر کے سوا اس میں سب بظاہر عرب نژاد نظر آتے ہیں۔ لیکن ابو فراج کا ان میں ذکر نہیں۔

اگر اس اشتہار میں درج ویب سائٹ کا مزید معلومات کے لئے دورہ کریں تو بھی مطلوب افراد سے بھرے اس مقام پر بھی آپ کو ابو فراج نہیں ملیں گے۔ یہاں بھی اسامہ، ایمن الزواہری اور ملا محمد عمر جیسے اکتیس افراد جن میں عبدروف جدے اور فاکر بسورہ کے نام اور تصاویر تو شامل ہیں لیکن ابو فراج کہیں نہیں۔ یہی حال ایف بی آئی کی ویب سائٹ پر بھی ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید ابو فراج صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کی وجہ سے شاید امریکیوں سے زیادہ پاکستانی حکام کے لئے اہم تھے۔

ابو فراج کا نام خود صدر پرویز مشرف نے کئی بار اپنی تقاریر میں لیا۔ اسی وجہ سے پاکستانی سیکورٹی ایجنسیاں اس کے مسلسل تعاقب میں تھیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق انہیں بل آخر مردان کے نواحی علاقے فاطمہ سے گرفتار کیا گیا۔

لیکن مبصرین کے خیال میں ایک اور انتہائی مطلوب شخص کے شہری علاقے سے برآمد ہونے پر حکومت ندامت سے بچنے کی خاطر گرفتاری کا مقام بتانے سے گریز کر رہی ہے۔ ماضی میں ایسی کسی گرفتاری پر شہر کا نام بھی بتایا جاتا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں اس تازہ گرفتاری سے القاعدہ کو کمزور کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ابو فراج تفتیش کاروں سے کتنا تعاون کرتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد