کون کب پکڑا گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں القاعدہ کے تعلق سے ابو فراج اللبی کی گرفتاری اس تعاقب کا تسلسل ہے جو دراصل گیارہ ستمبر دوہزار ایک کے واقعات سے بہت پہلے سے شروع ہے۔ اور امریکہ کے دباؤ یا کہنے پر گزشتہ دس برس میں آنے والی ہر پاکستانی حکومت نے القاعدہ سے تعلق کے شبہے میں مطلوب افراد کا تعاقب جاری رکھا ہے۔ اب تک پاکستان پانچ سو سے زائد مشتبہ القاعدہ حامی گرفتار کرکے بیشتر کو امریکہ کے حوالے کر چکا ہے۔ اس فہرست میں جو نام سب سے معروف ہیں ان میں سے پہلا نام رمزی یوسف کا ہے۔ جو امریکی حکام کو انیس سو ترانوے میں نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں ہونے والے دھماکے اور بحر الکاہل کے اوپر گیارہ امریکی طیاروں کی ممکنہ تباہی کے پلاٹ میں مطلوب تھا۔
رمزی کو وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو کے دور میں فروری انیس سو پچانوے میں اسلام آباد کے ایک گھر سے حراست میں لیا گیا اور فوراً امریکہ پہنچا دیا گیا جہاں اسے ایک عدالت نے انیس سو اٹھانوے میں دوسو چالیس برس قیدِ تنہائی اور پینتالیس ملین ڈالر جرمانے کی سزا سنادی۔ لیکن گیارہ ستمبر کے بعد جنرل پرویز مشرف کے دور میں جو سب سے پہلی اہم گرفتاری عمل میں آئی وہ ابوزبیدہ کی تھی۔ ابو زبیدہ کے بارے میں امریکی انٹیلی جنس اندازے یہ تھے کہ وہ القاعدہ کی بالائی قیادت میں اہمیت کے اعتبار سے اسامہ بن لادن اور ایمن الزواہری کے بعد تیسرے نمبر پر تھا اور القاعدہ کے عالمی آپریشنز میں رابطہ پیدا کرنے کے معاملات کا انچارج تھا۔ اسے امریکی ایف بی آئی اور پاکستانی انٹیلی جنس کے مشترکہ آپریشن میں فیصل آباد کے ایک مکان سے مارچ دو ہزار دو میں زخمی حالت میں پکڑا گیا اور امریکہ کے حوالے کردیا گیا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ابو زبیدہ نے لاس اینجلس اور عمان میں ممکنہ تباہکاری کا ملینیم پلاٹ منصوبہ بند کیا اور پیرس اور سرائیوو میں امریکی سفارتخانوں کی تباہی کے ناکام منصوبے تشکیل دیے۔ تیسری اہم ترین گرفتاری رمزی بن الشب کی ہوئی۔ اسے ستمبر دوہزار دو میں کراچی سے پاکستانی سیکیورٹی دستوں نے امریکی انٹیلی جنس کی مدد سے پکڑا۔ رمزی بن الشب کے بارے میں کہا جاتاہے کہ وہ نہ صرف عدن کی بندرگاہ میں لنگر انداز امریکی جنگی جہاز یو ایس ایس کول کی انیس سو اٹھانوے میں تباہی کے واقعے میں ملوث تھا بلکہ القاعدہ کے جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں قائم سیل کا انچارج تھا۔اس نے گیارہ ستمبر کے واقعے کے مرکزی ہائی جیکر محمد عطا کو مالی اور نقل و حمل کے وسائل مہیا کئے۔اس ناطے رمزی جرمن حکام کو بھی مطلوب تھا۔ رمزی کے بارے میں امریکی حکام کا اندازہے کہ وہ گیارہ ستمبر کا بیسواں ہائی جیکر تھا۔ مگر اسے امریکہ میں داخلے کے لیے بروقت ویزا نہ مل سکا۔ مگر القاعدہ کی جس شخصیت کی گرفتاری کا اعلان امریکی صدر بش نے ذاتی طور پر یہ کہہ کر کیا کہ ہم نے گیارہ ستمبر کا ماسٹر مائنڈ پکڑ لیا ہے وہ تھا خالد شیخ محمد۔ اس پر امریکہ نے پچیس ملین ڈالر کا انعام رکھا تھا۔ اور اسکا درجہ القاعدہ کے چار مرکزی بڑوں میں بتایا جاتا ہے۔ خالد شیخ محمد کی گرفتاری مارچ دوہزارتین میں راولپنڈی کے ایک گھر سے عمل میں آئی۔ تاہم امریکہ نے خالد شیخ محمد کو گیارہ ستمبر کے واقعات میں ماخوذ کرنے کے بجائے یہ فردِ جرم عائد کی ہے کہ وہ اپنے بھتیجے رمزی یوسف کے ساتھ بحرالکاہل کے اوپر دورانِ پرواز گیارہ امریکی مسافر طیاروں کی ممکنہ تباہی کے ناکام پلاٹ کا معمار ہے۔ جبکہ سالِ گزشتہ جولائی دو ہزار چار میں ایک اور اہم ترین گرفتاری پنجاب کے شہر گجرات سے عمل میں آئی۔ جب سیکیورٹی ایجنسیوں نے احمد خلفان گیلانی کو پکڑ کے امریکہ کے حوالے کیا۔گیلانی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ انیس سو اٹھانوے میں نیروبی اور دارلسلام میں امریکی سفارتخانوں کی تباہی کی منصوبہ بندی کا مرکزی کردار ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||