مشرف کی کوشش قابل تعریف: بش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر بش نے ابو فراج اللبی کی گرفتاری پر صدر مشرف اور حکومتِ پاکستان کی تعریف کی ہے۔ صدر بش کے مطابق ابوفراج اللبی کا شمار اسامہ بن لادن کے اہم جرنیلوں میں ہوتا تھا اور وہ القاعدہ تنظیم کے ایک بڑے منصوبہ ساز اور اہم کارکن تھے۔ صدر بش کے مطابق ابوفراج اللبی کی گرفتاری سے ایک ایسا دشمن راہ سے ہٹ گیا ہے جو امریکہ اور آزادی سے محبت کرنے والوں کے لیے براہِ راست خطرہ تھا۔ ’میں دہشت گردی میں جنگ کے سلسلے میں تعاون پر حکومت پاکستان کی کوششوں کو سراہتا ہوں۔ انتہائی معتبر اطلاعات کی بنیاد پر اس شخص کی گرفتاری پر حکومت پاکستان اور صدر مشرف تعریف کے مستحق ہیں۔‘ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے اور ہم اس وقت تک اپنی کاررائیاں جاری رکھیں گے جب تک القاعدہ کو شکست نہیں ہو جاتی۔‘ اس سے پہلے موصول ہونے والی خبروں میں کہا گیا تھا کہ القاعدہ تنظیم کے انتہائی مطلوب افراد کی امریکی فہرست میں شامل ابو فراج اللبی عرف ڈاکٹر توفیق کو پاکستان میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ وزیرِ اطلاعات شیخ رشید احمد نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ اللبی کو پانچ اور القاعدہ کے مبینہ شدت پسندوں کے ساتھ کچھ دن قبل گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم دو اعلیٰ سکیورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اللبی کو وزیرستان کے قبائلی علاقے میں ایک جھڑپ کے بعد گرفتار کیا گیا۔ ایک اور اطلاع کے مطابق انہیں صوبہ سرحد کے شہر مردان سے گرفتار کیا گیا۔ اللبی القاعدہ کے سرکردہ رہنماؤں میں اسامہ بن لادن اور مصری نژاد ایمن الزہواری کے بعد تیسرے نمبر پر آتے ہیں۔ سکیورٹی اہکاروں کا کہنا ہے کہ خالد شیخ محمد کی گرفتاری کے بعد اللبی نے ان کی جگہ لے لی تھی۔ ابو فراج کی گرفتاری پر حکومتِ پاکستان کی طرف سے دو کروڑ روپے کا انعام مقرر کیا گیا تھا۔ ابو فراج مبینہ طور پر صدر جنرل پرویز مشرف پر خود کش حملے میں شامل افراد کے سرغنہ بتائے جاتے ہیں۔ شیخ رشید احمد سے جب پوچھا کہ ابو فراج البی کو کہاں سے گرفتار کیا گیا ہے تو انہوں نے کہا کہ مزید تفصیلات وہ معلوم کر رہے ہیں اور بعد میں بتائیں گے۔
پاکستان حکومت نے گزشتہ سال اٹھارہ اگست کو مختلف اخبارات میں ’انتہائی مطلوب افراد‘ کے عنوان سے اشتہار شائع کرایا تھا۔ جس میں پہلے نمبر پر ابو فراج اللبی کا نام ان کی تصویر کے ساتھ شائع کیا گیا تھا۔ حکومت نے گزشتہ سال جو اشتہار شائع کرایا تھا اس میں ابو فراج اللبی کے ساتھ پانچ اور ملزمان کی تصاویر بھی شائع کی تھیں۔ جس میں سے ایک امجد حسین عرف امجد فاروقی پولیس مقابلے میں مارے جاچکے ہیں۔ جبکہ دیگر مطلوب ملزمان میں مطیع الرحمان عرف صمد، عمر اقدس عرف سہیل، قاری احسان عرف شاہد اور منصور عرف چھوٹا ابراہیم شامل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||