صدر پر حملے کا ملزم پھرگرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدرجنرل پرویز مشرف پر دسمبر 2003 میں ہونے والے قاتلانہ حملے کا ملزم مشتاق احمد جو نومبر 2004 کے آخری ہفتے کے دوران راولپنڈی میں ائرفورس پولیس کی حراست سے فرار ہو گیا تھا دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تاہم سرکاری طور پر فوجی حکام اور وزیر اطلاعات شیخ رشید نے اس خبر کی تصدیق نہیں کی ہے۔ ایک نجی ٹی وی اور رائٹرز نیوز ایجنسی نے سکیورٹی حکام کے حوالے سے یہ خبر نشر کی ہے۔ اس خبر میں کہا گیا ہے کہ مشتاق کو گزشتہ ہفتے لاہور سے اسلام آباد آتے ہوئے موٹر وے پر گرفتار کیا گیا تھا اور اس کی گرفتاری کے بعد ہی القاعدہ کے اہم لیڈر ابو فراج اللبی کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ مشتاق احمد ائرفورس میں جونئیر رینک کا اہلکار ہے۔ ائرفورس کے ترجمان ائر کموڈور سرفراز احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ مشتاق احمد کا تعلق ائرفورس سے ہے اور اسے صدر مشرف پر حملے کے الزام میں کورٹ مارشل کے بعد موت کی سزا بھی سنائی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشتاق احمد کا فرار ائرفورس پولیس کی نا اہلی تھی۔ انہوں نے ان اطلاعات کی تردید کی کہ مشتاق احمد ائرفورس پولیس کے بعض اہلکاروں کی ورغلا یا ’ برین واشنگ‘ کر کے فرار ہوا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||