BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 22 April, 2005, 10:53 GMT 15:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف کی کامیاب حکمتِ عملی؟

صدر جنرل مشرف
آج جنرل مشرف کی وردی کا کوئی ذکر ہی نہیں ہے
گزشتہ سال نومبر میں پاکستان میں صدر جنرل پرویزمشرف کے خلاف ایک زبردست مخالفت کی فضا پیدا ہوئی جو ایک مہینے شدت سے جاری رہی۔اُن کے فوجی یونیفارم نہ اتارنے کے اعلان کے بعد حزبِ اختلاف متحد ہورہی تھی اور ہر طرف وردی وردی کی پکار تھی۔

آج پانچ مہینے بعد جنرل مشرف کی وردی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

حزب مخالف کی جماعتیں خود تقسیم ہوچکی ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف بیانات دے رہی ہیں۔ کیا اسے صدر جنرل پرویز مشرف کی سیاسی حکمت عملی اور سیاسی حربوں کی جیت کہا جاسکتا ہے؟

ان دنوں حزب اختلاف کا سب سے بڑا محاذ اتحاد برائے بحالی جمہوریت (اے آر ڈی) بحران سے دوچار ہے اور اس کی دو بڑی جماعتوں، پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کا اختلاف کُھل کر سامنے آگیا ہے۔

اگلے روز مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام پارلیمانی قائد چودھری نثار علی نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی اسٹیبلیشمنٹ سے مفاہمت کی باتوں کے بعد ان کی جماعت اے آر ڈی کی کسی سرگرمی میں شریک نہیں ہوگی اور اگلے ہفتے پارٹی کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

آصف علی زرداری نے سولہ اپریل کو دبئی سے لاہور پہنچنے کے بعد بار بار اسٹیبلیشمینٹ سے مفاہمت کی بات کی ہے۔ اس سے مسلم لیگ (ن) تشویش کا شکار ہے۔ چودھری نثارعلی کا کہنا ہے کہ اسٹیبلیشمینٹ سے مذاکرات کسی صورت میں جمہوریت اور سیاست کا حصہ نہیں ہوسکتے۔

چودھری نثار کے بیان کے ردعمل میں پیپلزپارٹی کے قائد مخدوم امین فہیم کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کا موقف غلط فہمی کا نتیجہ ہے جسے دور کردیا جائے گا۔

پیپلزپارٹی کے چند مرکزی رہنماؤں نے پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو کے کہنے پر مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما راجہ ظفرالحق سے ملاقات کی ہے اور اپنے موقف کی وضاحت کی ہے۔

گو مسلم لیگ (ن) کے رہنماء نے اے آر ڈی کو قائم رکھنے کی بات بھی کی ہے لیکن اگر یہ اتحاد بچ بھی گیا تو چودھری نثار علی کی پیپلزپارٹی پر کھلے عام زبردست تنقید کے بعد عوام میں اس اتحاد کی ساکھ کو جو نقصان پہنچا ہے اسے بحال ہونے میں شاید وقت لگے گا۔

اے آر ڈی کے ٹوٹنے یا غیر موثر ہوجانے کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا۔

سترہویں ترمیم پر چھ مذہبی سیاسی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل اور اے آر ڈی میں شدید اختلافات کے بعد خود اے آر ڈی کے انتشار سے حزب مخالف کے تتر بتر ہوجانے کا تاثر مزید پختہ ہوگیا ہے۔

اب توجہ کامرکز صدر جنرل پرویز مشرف نہیں بلکہ حزب مخالف کا انتشار ہے۔

گزشتہ سال نومبر میں صدر جنرل پرویزمشرف نے اپنے پہلے کیے ہوئے وعدہ کے برعکس یہ اعلان کیا تھا کہ وہ دسمبر کے بعد بھی صدر مملکت رہنے کے ساتھ ساتھ فوج کے سربراہ کا عہدہ بھی اپنے پاس رکھیں گے۔

پارلیمینٹ میں ان کی اتحادی حکمران جماعت مسلم لیگ (ق) نے اس کے لیے قانون میں ترمیم بھی کردی۔

اس کے بعد متحدہ مجلس عمل نے بھی صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف ایک مہم شروع کردی تھی اور حزب اختلاف کی صفوں میں اتحاد بڑھنے لگا۔

پورے ملک میں ہر طرف ایک ہی سیاسی بات تھی اور وہ تھا مشرف کی وردی کا معاملہ۔

ایک ماہ یہ فضا قائم رہنے کے بعد ماحول بدلنے لگا۔ پہلے بلوچستان میں قوم پرستوں اور عسکریت پسندوں کی کاروائیاں تیز ہوگئیں۔ یوں وردی کی جگہ بلوچستان میں امن و امان کی خراب صورتحال اور ملکی سلامتی کی تشویش فضا پر چھاگئی۔

ساتھ ہی ساتھ وزارت داخلہ نے نئے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈز جاری کردیے۔ ان میں سے مذہب کا خانہ نکال دیا گیا تھا اور اسلامی جمہوریہ کے الفاظ ختم کردیےگئے تھے۔

متحدہ مجلس عمل صدر کی وردی کو چھوڑ کر پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کے لیے بیان بازی، ہڑتالیں اور مظاہرے کرنے لگی۔

چند حکومتی وزرا نے اس اقدام کے حق میں اور چند نے اس کے خلاف بیان جاری کیا۔تین چار ماہ خاصا کنفیوژن پھیلا۔

اسی دوران آغا خان تعلیمی بورڈ سے سکولوں کے الحاق کامعاملہ بھی سامنے آیا۔ اس کی مخالفت میں بھی مذہبی جماعتوں نے خوب احتجاج کیا اور مذہبی جماعتوں کی طلبا تنظیموں کے اس کے خلاف مظاہرے شروع ہوگئے۔

پنجاب حکومت کی طرف سے بورڈ کے خلاف ایک موقف سامنے آیا جبکہ وفاقی وزیر تعلیم کی طرف سے اس کے حق میں دوسرا موقف سامنے آیا۔ تین چار ماہ یہ معاملہ بھی زور و شور سے چلا۔

وردی کے خلاف حزب اختلاف کے مظاہرے
سب کچھ بھول کر خود ہی انتشار کا شکار حزب اختلاف

آخر میں حکومت نے لاہور میں ملک کی پہلی عالمی میراتھن ریس کرادی اس ریس میں مرد اور عورتوں نے اکٹھے شرکت کی۔

متحدہ مجلس عمل پاسپورٹ اور آغا خان تعلیمی بورڈ چھوڑ کر اس کے پیچھے پڑ گئی اس کا کہنا تھا کہ قوم کی تہذیب اور مذہب پر حملہ کیا گیا ہے اور جنرل مشرف کی حکومت امریکہ کے کہنے پر ’نکر‘ کلچر متعارف کررہی ہے۔

مجلس عمل کی طرف سے چھوٹے شہروں کی منی میراتھن ریسوں میں مخلوط ریس کو زبردستی رکوانے کی دھمکی دی گئی۔

گوجرانوالہ میں منی میراتھن پر حملہ کیا گیا اس کے بعد دوسرے شہروں میں پنجاب حکومت نے مخلوط ریس ختم کرکے عورتوں اور مردوں کی الگ الگ ریس کا اہتمام کروانے کا اعلان کردیا۔

اسی طرح کابینہ نے چار پانچ ماہ کے تنازعہ کے بعد پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال کردیا۔

آغا خان بورڈ پر وضاحت کی گئی کہ وہ پاکستانی نصاب کے مطابق امتحان لے گا اور صرف نجی ادارے اس سے الحاق کریں گے، سرکاری تعلیمی ادارے نہیں۔ یوں معاملہ پوری طرح ختم تو نہیں ہوا لیکن خاصا دب گیا۔

ان تینوں معاملات سے پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ، آغا خان تعلیمی بورڈ اور میراتھن ریس مجلس عمل کو موقع دیا گیا کہ وہ صدر جنرل مشرف کی وردی چھوڑ کر ان معاملات پر احتجاج کرے اور ملین مارچ بھی کرلے۔

آخر میں اس کے ان معاملات پر مطالبات مان لیے گئے۔

تاہم توجہ صدر مشرف کی وردی سے ہٹ کر دوسرے معاملات پر چلی گئی۔

بلوچستان پر بھی حکومتی نمائندوں ، مشاہد حسین اور چودھری شجاعت حسین نے اکبر بگتی سے مذاکرات کیے اور کسی حد تک مفاہمت بھی ہوگئی۔ اس معاملہ کی شدت بھی کم ہوگئی۔

دوسری طرف، مجلس عمل کو چھوٹے چھوٹے متنازعہ معاملات میں مشغول کرکے اسٹیبلیشمنٹ کے اہلکاروں نے دبئی اور جدہ جاکر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی قیادت سے مذاکرات شروع کردیے۔

وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے شہر شہر جاکر تواتر سے پریس کانفرنس کیں اور خود میڈیا کو ان رابطوں کے بارے میں خبریں دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی ان جماعتوں سے مذاکرات ہورہے ہیں اور مفاہمت کی کھچڑی پک رہی ہے جس کا نتیجہ جلد نکل آئے گا۔

اسی دوران آصف زرداری رہا ہوکر دبئی چلے گئے اور کچھ عرصہ رہنے کے بعد ملک واپس آگئے۔

وزیراعلی سندھ نے پریس کانفرنس میں زرداری کی رہائی اور اُن کی ملک واپسی کو اُن کی حکومت سے ڈیل کا نتیجہ بتایا لیکن اس کے آگے کیا ہوگا اس بارے میں اُن کا کہنا تھا کہ اتنی لمبی منصوبہ بندی کوئی نہیں کرتا۔

بے نظیر اور زرداری
اسٹیبلشمینٹ کے ساتھ

ان رابطوں کے بعد مسلم لیگ(ن) کے سربراہ نواز شریف کا موقف تو صدر جنرل مشرف کے بارے میں تبدیل نہیں ہوا لیکن پیپلزپارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو نے بھی اپنے بیانات میں صدر جنرل مشرف کی طرف نرم رویہ اختیار کرنے کی تصدیق کی اور مختلف معاملات پر ان کی جزوی حمایت شروع کردی۔

حال ہی میں انہوں نے صدر مشرف کے دورہ بھارت پر بھارت اور پاکستان کے مشترکہ اعلامیہ کی بھی حمایت کا اعلان کیا ہے جبکہ ان کی اتحادی جماعت مسلم لیگ(ن) نے اس کی مخالفت کی ہے۔

فنکشنل لیگ کے بزرگ قائد اور سیاسی جوڑ توڑ پر نگاہ رکھنے والے پیر پگارا کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کی جنرل مشرف سے ڈیل ہوچکی ہے۔

حکمران جماعت مسلم لیگ(ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین اسے ڈیل نہیں بلکہ ڈھیل بتاتے آرہے ہیں۔

سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی اور صدر جنرل مشرف کے درمیان اب اختلاف اس نکتہ پر ہے کہ پیپلزپارٹی اسی سال عام انتخابات کا انعقاد چاہتی ہے جبکہ صدر مشرف سنہ دو ہزار سات میں عام انتخابات کرانے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

صدر مشرف اپنے عوامی جلسوں میں واضح طور پر عوام سے کہہ رہے ہیں کہ وہ آئندہ انتخابات میں پیپلزپارٹی جیسی جماعتوں کو ووٹ دیں تاکہ ملک میں انتہاپسندی کو ختم کیا جاسکے۔

منیلا میں اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی ایک حقیقت ہے اور لبرل جماعت ہے جسے ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔

گویا متحدہ مجلس عمل کو متحدہ حزب مخالف سے الگ کرنے کے بعد اب اسٹیبلیشمینٹ نے اپنے کارڈز اس طرح کھیلے کہ اس نے ملک کی دو سب سے بڑی سیاسی جماعتوں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے اتحاد کو بھی فی الوقت تقسیم کردیا ہے۔

اگر بعد میں حزب اختلاف کی یہ جماعتیں پھر سے اکٹھی ہوجائیں تب بھی وردی پر آنے والا بحران تو ٹل گیا۔

صدر جنرل پرویز مشرف کو خاصا وقت بھی مل گیا کہ جلسے کرکے عوام سے براہ راست رابطہ کرسکیں، اپنے حق میں مہم چلا سکیں اور حزب مخالف کی ساکھ کو خراب کرسکیں۔

صدر جنرل پرویز مشرف اور فوج میں ان کے رفقائے کار اور نفسیاتی جنگ کے ماہرین کی حزب اختلاف کو تقسیم کرنے اور اصل مسئلہ سے توجہ ہٹا کر رائے عامہ کو فروعی معاملات میں الجھانے کی جو صلاحیت ہے اس کی کامیابی سب کے سامنے ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد