’آئین افضل ہے یا فوجی ڈکٹیٹر‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ میں پیر سے صدر جنرل مشرف کے دو عہدے رکھنے اور آئین میں کی گئی سترہویں ترمیم کے خلاف آئینی درخواستوں کی سماعت شروع ہو گئی۔ سپریم کورٹ نے صدر جنرل مشرف کے فوجی اقتدار کو نظریہ ضرورت کی بنیاد پر جائز قرار دے رکھا ہے۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ مداخلت کرکے مستقبل میں فوج کی حکومت کا راستہ روکے اور حکومت کی طرف سے اعلی عدالتوں کے ججوں کی تقرری حکومت کی مداخلت کو غیر آئنی قرار دے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ناظم حسین صدیقی کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے آج اس مقدمے کی سماعت شروع کی تو پہلے درخوست گزار الجہاد ٹرسٹ کے حبیب وہاب الخیری نے اپنے دلائل دیئے۔ انہوں نے کہا کہ سترہویں ترمیم میں ججوں کی عمر بڑھانے کے فیصلے کو واپس لینا غیر آئینی اقدام ہے۔ انھوں نے امریکہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ججوں کی ریٹائرمنٹ کی کوئی عمر نہیں ہوتی جس سے ججوں کے اوپر کوئی دباؤ نہیں ہوتا۔ وہاب الخیری نے کہا کہ پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ عدلیہ کی آزادی کا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت بدستور ایڈیشنل ججوں کی تقرری کرتی ہے تاکہ اس دوران یہ دیکھ لیا جائے کہ کون سا جج حکومت کے ساتھ ہے اور کون سا حکومت کے خلاف فیصلہ دے کر اس کے لئے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے اور دو سال کے بعد ان ججوں کو فارغ کر دیتی ہے جو حکومت کے خلاف سمجھے جاتے ہیں۔ الجہاد ٹرسٹ کے سربراہ نے کہا کہ حکومت اعلی عدالتوں کے فیصلوں پر عمل نہیں کرتی اور ججوں کو ان کی سینیارٹی کے تحت ترقی نہیں دی جاتی۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آئین میں اعلی عدالتوں کے چیف جسٹس کے تقرر کے لئے سینیارٹی کا اصول آئین میں نہیں دیا گیا۔ وہاب الخیری نے اپنے دلائل ختم کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ سپریم کورٹ کے پاس اس بات کا اختیار ہے کہ وہ عدلیہ کی آزادی یقینی بنائے اور ججوں کی عمر بڑھائے جانے کا فیصلہ دوبارہ لاگو کرے۔ پاکستان لائرز فورم کے وکیل اے کے ڈوگر نے اپنے دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ نے صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت ختم کرنے کے کیس کے فیصلے میں لکھا تھا کہ آئین میں کوئی ترمیم پارلیمانی نظام اور عدلیہ کی آزادی کو سلب کرنے کے بارے میں نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے دو ہزار دو میں سپریم کورٹ کو اپنے وکیل کے ذریعے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ تین سال کی مدت کے بعد اقتدار سویلین حکومت کو منتقل کر دیں گے مگر اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس وعدے کے برخلاف پہلے ملک میں ریفرینڈم کروایا اور آئین میں لیگل فریم ورک آرڈر متعارف کروایا جس سے آئین کی شکل بالکل ہی تبدیل کر دی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دسمبر دو ہزار تین میں دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے فوج کے ساتھ مل کر سترہویں ترمیم کو پاس کروایا اور بعد میں وردی اتارنے کے اپنے وعدے سے پھر گئے۔ لائرز فورم نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلائے تاکہ آئندہ کے لئے سیاست میں فوج کا کردار ختم کیا جا سکے۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ ہر فوجی آئین کی حفاظت کرنے کا حلف اٹھاتا ہے مگر صدر جنرل مشرف نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ سپریم کورٹ صدر جنرل پرویز مشرف کو آئین کے آرٹیکل چھ کی خلاف ورزی کرنے پر بغاوت کا مرتکب قرار دے اورمستقبل میں فوجی مداخلت مستقل طور پر ختم کرنے کے لئے فیصلہ صادر کرے۔ اس موقع پر بنچ کے ایک جج جسٹس جاوید اقبال نے وکیل سے پوچھا کہ کیا یہ بنچ اس فیصلے کو کالعدم قرار دینے کا مجاز ہے جس نے صدر جنرل پرویز مشرف کی حکومت کو جائز قرار دیا تھا۔ اس پر لائرز فورم کے وکیل نے کہا کہ عدالت کو اس بات پر فیصلہ دینا ہوگا کہ آیا ملک کا آئین افضل ہے یا ایک فوجی ڈکٹیٹر۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||