BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 April, 2005, 09:31 GMT 14:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دو عہدے مقدمہ، سماعت پیر سے

سپریم کورٹ
عدالت نے عدلیہ سے متعلق معاملات پر حکومت کو الگ سے نوٹس جاری کیا ہے
سپریم کورٹ پیر سے صدر جنرل پرویز مشرف کے بیک وقت آرمی چیف اور صدر کے عہدے رکھنے اور آئین میں کی گئی سترہویں ترمیم کے خلاف دائر آئینی درخواستوں کی باقاعدہ سماعت کرے گی۔

چیف جسٹس ناظم حسین صدیقی کی سربراہی میں تشکیل دیا گیا پانچ رکنی بنچ جس میں جسٹس افتخار چوہدری، جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر بھی شامل ہیں اس بات کا فیصلہ کرےگی کہ آیا صدر مشرف کا دو عہدوں پر بیک وقت فائز رہنا آئین کے مطابق ہے یا نہیں۔

عدالت اس بات کا جائزہ بھی لے گی کہ اس ترمیم میں اعلی عدالتوں کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کا فیصلہ واپس لیا جانا عدلیہ کی توہین کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں۔

اس بنچ کے ایک جج جسٹس جاوید اقبال اس مقدمے کی ابتدائی سماعت کے دوران کہ چکے ہیں کہ سپریم کورٹ آئین کی تخلیق ہے اور پارلیمنٹ آئین کا خالق لہذا عدالت کو دیکھنا ہو گا کہ کیا تخلیق اپنے خالق کے خلاف کوئی فیصلہ دے بھی سکتی ہے۔

اس سلسلے میں پاکستان لائرز فورم، الجہاد ٹرسٹ اور دیگر کی طرف سے سات درخواستیں سماعت کے لیے منظور کی گئی ہیں۔

ان درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے جب صدر مشرف کی طرف سے اکتوبر 1999میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کی برطرفی کو نظریہ ضرورت کے تحت جائز قرار دیا تھا تو اس وقت عدالت نے صدر مشرف کو تین سال تک اقتدار میں رہنے کی مہلت دی تھی جبکہ وہ ابھی تک صدر اور آرمی چیف کے عہدوں پر فائز ہیں۔

پاکستان لائرز فورم کے وکیل اے کے ڈوگر نے اپنے ابتدائی دلائل میں کہا تھا کہ سترہویں ترمیم سے آئین میں وزیر اعظم کو دیے گئے اختیارات صدر کو منتقل کر دیے گئے ہیں جو غیرقانونی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت صدر جنرل مشرف کو حکم دے کہ وہ افواج پاکستان کے سربراہان کی تعیناتی سمیت تمام اختیارات واپس وزیراعظم کو تفویض کر دیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت کی سپریم کورٹ نے کئی دفعہ پارلیمنٹ کی طرف سے آئین میں کی گئی ترامیم کو آئین کے منافی ہونے کے سبب غیر قانونی قرار دیا ہے۔

الجہاد ٹرسٹ کے وکیل وہاب الخیری نے کہا تھا کہ سترہویں ترمیم میں عدلیہ کے مخالف کئی چیزیں شامل کی گئی ہیں جن میں ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر زیادہ کرنے کے فیصلے کو واپس لینا بھی شامل ہے۔

عدالت نے عدلیہ سے متعلق ان معاملات پر حکومت کو الگ سے نوٹس جاری کیا ہے جس میں حکومت سے عدلیہ سے متعلق معاملات پر تین ہفتوں میں جواب داخل کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد