BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 March, 2005, 15:45 GMT 20:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ملین مارچ میں ہزاروں کی شرکت

ملین مارچ
ایم ایم اے کے ملین مارچ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی
متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حیسن احمد نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے پاکستان سے ایٹمی پروگرام ختم کرنے اور ایران کے خلاف امریکہ کا ساتھ دینے کا مطالبہ کیا ہے اور اگر حکمرانوں نے یہ مطالبے تسلیم کیے تو مجلس عمل اس کی مخالفت کرے گی۔

آج لاہور میں متحدہ مجلس عمل کے زیر اہتمام ملین مارچ کے نام سے ایک جلوس اور جلسہ کا اہتمام کیا گیا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ متحدہ مجلس عمل کے کارکنوں اور مذہبی مدرسوں کے طلبا پر مشتمل ایک قافلہ لاہور کے ناصر باغ سے مینار پاکستان کے قریب آزادی چوک تک گیا اور دوسرا جلوس گوجرانوالہ اور سیالکوٹ سے آئے ہوئے جلوسوں کو لے کر شاہدرہ سے لاہور آیا۔

لاہور کے ٹکسالی گیٹ اور لیڈی ولنگٹن ہسپتال کے سامنے سڑک پر اسٹیج بنایا گیا تھا جہاں سے مجلس عمل کے قائدین اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے خطاب کیا۔

مجمع میں دورویہ سڑک پر اسٹیج سے آزادی چوک تک تقریبا پندرہ سے بیس ہزار افراد موجود تھے۔ مجلس عمل کے جلسہ میں مختلف مقررین کا صدر جنرل پرویزمشرف کے بارے میں رویہ کا ان کے طرز تخاطب سے اظہار ہوتا تھا۔ عمران خان صدر جنرل پرویزمشرف کو ’جنرل مشرف‘ کہہ کر مخاطب کرتے رہے، مولانا فضل الرحمن نے انہیں ’جنرل مشرف صاحب‘ اور ’آپ‘ کہا جبکہ قاضی حسین احمد نے ’پرویزمشرف‘ کہہ کر بات کی۔

جلسہ میں امریکہ کا جو یار ہے غدار ہے کے نعرے لگائے گئے تاہم صدر جنرل مشرف کا نام لے کر ان کے خلاف کوئی نعرہ نہیں لگایا گیا۔

 جنرل مشرف واشنگٹن کی روشن خیالی لانا چاہتے ہیں اسلام کی نہیں اور ان سے دو قومی نطریہ اور ملک کے نظریہ کو خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف کی روشن خیال اعتدال پسندی کامطلب امریکہ کی مکمل غلامی اور مغربی تہذیب کو مسلمانوں پر مسلط کرنا ہے۔
عمران خان

مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ دو اپریل کو ملک میں مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی اپیل کرتے ہیں جو صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف ریفرنڈم ہوگا۔

قاضی حسین احمد نے کہا کہ ایک جرنیل کے جانے کے بعد دوسرے جرنیل کو قبول نہیں کیا جائے گا اور امریکہ سے آنے والے کو بھی حکمران قبول نہیں کیا جائے گا اور جو قیادت کے لیے امریکہ کی طرف دیکھتا ہے اسے بھی تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

اسی نکتہ پر عمران خان نے بھی زور دیا اور کہا کہ جو اس وقت صدر جنرل پرویز مشرف سے ڈیل کرے گا وہ تباہ ہوجائے گا۔ عمران خان نے دو اپریل کی ہڑتال میں شریک ہونے کااعلان کیا اور کہا کہ یہ ہڑتال مہنگائی کے خلاف ہے اور غریب لوگوں کے لیے ہے۔

قاضی حسین احمد نے صدر جنرل پرویز مشرف کو امریکہ کا غلام، کٹھ پتلی اور تابع قرار دیتے ہوئے لوگوں سے پوچھا کہ کیا وہ امریکہ کے غلام کی غلامی قبول کریں گے جس پر لوگوں نے کہا نہیں نہیں۔

قاضی حسین احمد نے دعوی کیا کہ امریکہ کی سیکرٹری خارجہ کونڈالیزا رائس جب پاکستان کےدورہ پر آئی تھیں توانہوں نے پاکستان کے سامنے دو مطالبے رکھے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ پاکستان اپنے نیوکلئیر پروگرام کو ختم کرے اور ایٹمی پروگرام کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی پوری لیبارٹری کو ختم کرے۔

News image
مجلس عمل کے قائدین اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے جلسے سے خطاب کیا۔

قاضی حسین احمد نے کہا کہ اسلام آباد میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان ان کے ہمسائےمیں رہتے ہیں اور انہیں علم ہے کہ ان کے ٹیلی فون کاٹ دیے گئے ہیں اور ان سے ملاقات ایک قیدی کی طرح کرائی جاتی ہے جس کے دوران ایک انٹیلی جنس کا آدمی موجود رہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ محسن پاکستان کی توہین ہے۔

قاضی حسین احمد نے کہا کہ امریکہ نے جنرل پرویز مشرف کے سامنے دوسری بات یہ رکھی ہے کہ ایران کے مقابلہ میں پاکستان امریکہ کا ساتھ دے اور طالبان سے مقابلہ کی طرح انٹیلی جنس اور دوسری چیزوں سے امریکہ کی مدد کی جائے۔

قاضی حسین احمد نے لوگوں سے پوچھا کہ اگر پرویزمشرف نے ایران کے مقابلہ میں امریکہ کا ساتھ دیا تو کیا وہ پرویزمشرف کا ساتھ دیں گے جس پر لوگوں نے اونچی آواز میں ’نہیں نہیں‘ کہا۔

جمعیت علمائے اسلام (فضل گروپ) کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ وہ صدر جنرل مشرف کو صدر قبول نہیں کرتے اور ان کے ہوتے ہوئے منصفانہ انتخابات کی توقع نہیں رکھتے۔

مولانا فضل الرحمن نے صدر جنرل پرویزمشرف کے روشن خیال اعتدال پسندی کے نعرے پر تنقید کی اور کہا کہ بے حیائی، فحاشی اور الحاد کو روشن خیالی کا نام دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف کی وردی بھی تو شدت اور انتہا پسندی کی علامت ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ صدر مشرف نے کہا ہے کہ لوگ ملک کو مولویوں سے چھٹکارا دلائیں۔ مولانا نے کہا کہ جنرل مشرف کو مولوی سے چھٹکارا نہیں ملے گا اور وہ ان کی جڑوں میں بیٹھ گیا ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ کونڈالیزا رائس نے مولویوں کے سیاسی کردار کے خلاف بیان دے کر ملک کے معاملات میں مداخلت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف لوگوں سے پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے کے لیے کہہ رہے ہیں تو ان کی موجودگی میں منصفانہ انتخابات کیسے ممکن ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام اپنی مرضی سے ووٹ دیں تو انہیں کوئی اعتراض نہیں لیکن حکمرانوں اور ایک غیرملکی کے بیانات ملکی سیاست میں عدم توازن پیدا کررہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے ٹھیک کہا ہے کہ ملک کو باہر سے نہیں بلکہ اندر سے خطرہ ہے اور عمران خان کے بقول ملک کو یہ خطرہ دراصل جنرل مشرف سے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف واشنگٹن کی روشن خیالی لانا چاہتے ہیں اسلام کی نہیں اور ان سے دو قومی نطریہ اور ملک کے نظریہ کو خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف کی روشن خیال اعتدال پسندی کامطلب امریکہ کی مکمل غلامی اور مغربی تہذیب کو مسلمانوں پر مسلط کرنا ہے۔

جمعیت اہلحدیث کے سربراہ ساجد میر نے کہا کہ روشن خیال اعتدال پسندی ابوجہل اور عرب کے دور جاہلیت سے شروع ہوئی کیونکہ ابو جہل بھی کہتا پیغمبر اسلام حضرت محمد سے کہتا تھا کہ وہ اپنے خدا کی عبادت کریں لیکن اُن کے بتوں کو برا نہ کہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بسنت منانے اور عورتوں کو نیکریں پہنانے کے لیے نہیں بنا۔

اجتماع نے ایک قرارداد میں مطالبہ کیا کہ اگر دینی مدارس کے خلاف حکومت کی مہم بند نہ کی گئی تو مجلس عمل ان کا موثر دفاع کرے گی اور یہ کہ دینی مدارس پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد اور حقیقت کے خلاف ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد