ملک گیر ہڑتال کی اپیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے دو اپریل کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ملگ گیر ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ یہ اپیل جمعرات کے روز مجلس عمل کے زیرانتظام منعقد کردہ ایک مشاورتی سیمینار میں بعض تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کی تنظیموں کے نمائندوں سے مشاورت کے بعد منظور کردہ ایک قرارداد میں کی گئی ہے۔ سیمینار میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور مسلم لیگ نواز کے رکن اسمبلی خواجہ سعد رفیق بھی شریک ہوئے۔ تحریک انصاف نے تو ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا لیکن مسلم لیگ نواز کے رہنما نے مجلس عمل کے رہنماؤں کو مشورہ دیا کہ وہ میاں نواز شریف سے رابطہ کرکے حمایت حاصل کریں۔ جمعہ کے روز پاسپورٹ سے مذہب کا خانہ بحال کرانے کے لیے نکالے گئے جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے قاضی حسین احمد نے ہڑتال کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جس سے تاثر دیا گیا تھا کہ ملک گیر ہڑتال کا مقصد بھی وہ ہی ہوگا۔ لیکن تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اب اس کا مقصد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ بتایا گیا ہے۔ سیمینار میں ملک کے مختلف شہروں سے آئے ہوئے بعض تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کی تنظیموں کے نمائندے شریک ہوئے۔ ہڑتال کے موقع پر دکانیں بند رکھنے اور گاڑیاں نہ چلانے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔ متحدہ مجلس عمل نے ویسے تو صدر جنرل پرویز مشرف کے ان سے کیے گئے وعدے کے مطابق فوجی وردی نہ اتارنے کے خلاف احتجاجی مہم شروع کر رکھی ہے۔ لیکن اب ایسے لگتا ہے کہ وہ پاسپورٹ سے مذہب کا خانہ نکالنے جیسے مذہبی معاملات اور پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے جیسے عوامی مسائل کی بنیاد پر اپنی احتجاجی مہم کا دائرہ وسیع کرنا چاہتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||