مشرف کیخلاف قاصی نواز رابطہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ مجلس عمل کے صدر قاضی حیسن احمد نے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف سے رابطہ کیا ہے اور انہیں کہا ہے کہ وہ مجلس عمل کی حکومت مخالف تحریک جسے وہ ملین مارچ کہتے ہیں کی حمایت کریں اور دو اپریل کی ہڑتال میں مجلس عمل کا مکمل ساتھ دیں۔ مجلس عمل نے اتوار کو کراچی کے جلسہ میں اعلان کیا ہے کہ دو اپریل کو صدر مشرف کی پالیسیوں کے خلاف ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی۔ کراچی جلسہ کے بعد امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے فون پر جدہ میں میاں نواز شریف سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ مشرف مخالف تحریک میں مجلس کا ہر ممکن ساتھ دیں اور اس سلسلے میں وہ یعنی نواز شریف اے آر ڈی کا تیئیس مارچ کا لاہور کا جلسہ ملتوی کرانے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کریں تاکہ اس روز حزب اختلاف کی بیشتر بڑی جماعتیں مجلس عمل کے لاہور میں ہونے والے جلوس میں شامل ہوں اور صدر مشرف کےخلاف اپوزیشن کی یک جہتی کا مظاہرہ کیا جاسکے۔ میاں نواز شریف نے مسلم لیگ نواز کی مقامی قیادت کو اے آر ڈی کا اجلاس بلانے کی ہدایت کی ہے تا کہ اس حوالے سے کوئی لائحہ عمل طے کیا جاسکے۔مسلم لیگ نواز کی مقامی قیادت نے اس رابطے کی تصدیق کی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اے آر ڈی یعنی اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد برائے بحالی جمہوریت میں شامل ایک بڑی جماعت پیپلزپارٹی کو مجلس عمل کا ساتھ دینے کے سلسلے میں تحفظات رکھتی ہے اور ان کا کہنا ہےکہ مجلس عمل نے ماضی میں بھی میں احتجاج چھوڑ کر حکومت سے مذاکرات شروع کر دیے تھے جس کے نتیجے میں سترہویں آئینی ترمیم وجود میں آگئی۔ اس سلسلے میں مجلس عمل کے قائدین کا کہنا ہےکہ پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے رہنما مشرف حکومت سے مذاکرات کر رہے ہیں اور کوئی سیاسی ڈیل کرنا چاہتے ہیں اسی لیے وہ مجلس عمل کی حکومت مخالف تحریک میں شمولیت سے احتراز کا راستہ اپنائے ہوئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||