مشرف مخالف مظاہرہ، مقام تبدیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مجلس عمل کا حکومت مخالف ملین مارچ آج لاہور میں ہورہا ہے لیکن صرف ایک روز پہلے لاہور کے ملین مارچ کے حوالے سے دو اہم فیصلے ہوئے ہیں ایک تو یہ کہ اپوزیشن کے دوسرے اتحاد اے آر ڈی نے آج ہی کے روز لاہور میں ہونے والا اپنا جسلہ عام ملتوی کردیا اور دوسرا فیصلہ یہ کہ مجلس عمل نے حکومتی دباؤ پر اس کا مقام تبدیل کر دیا گیا ہے اور اب یہ احتجاجی مظاہرہ مال روڈ کی بجائے مینار پاکستان کے سامنے آزادی چوک پر منعقد ہوگا۔ مجلس عمل کاحکومت مخالف سیاسی قافلہ کل راولپنڈی سے روانہ ہونے کے بعد راستے کے مختلف شہروں سے ہوتا ہوا بدھ کو لاہور پہنچ رہا ہے جہاں مجلس عمل نے مال روڈ پر ملین مارچ اور پنجاب اسمبلی کے سامنے جلسہ عام کرنے کا اعلان کر رکھا تھا لیکن حکومت نے مجلس عمل کو یہ کہہ کر مال روڈ پر مظاہرہ کرنے سے روک دیا کہ مال روڈ پر پہلے سےجلسے جلوسوں پر پابندی ہے۔ رات گئے تک مجلس عمل کے صوبائی قائدین اور ضلعی انتظامیہ کے مذاکرات جاری رہے جس کے بعد جماعت اسلامی کے ترجمان امیرالعظیم نے ملین مارچ کے مقام کو تبدیل کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ مجلس عمل نے تصادم کے راستے کے گریز کیا ہے۔ اس سے پہلے نواب زادہ نصر اللہ خان مرحوم کے گھر پر اے آر ڈی کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں کیے گئے فیصلے مطابق منگل تيئيس مارچ کولاہور میں ہونے والا اے آرڈی کا جلسہ عام ملتوی کردیا گیا ہے۔ اپوزیشن کے اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے سیکرٹری جنرل نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا کہ اگرچہ یہ فیصلہ اے آر ڈی کی جلسہ گاہ میں بارش کا پانی کھڑا ہوجانے کی وجہ سے کیا گیا ہے لیکن اس کا فائدہ مجلس عمل کے ملین مارچ کو ہوگا۔ مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والے اقبال ظفر جھگڑا نے کہا کہ اے آر ڈی اس ملین مارچ میں شریک نہیں ہوگی لیکن کسی کو شرکت سے روکے گی بھی نہیں۔انہوں نے بتایا کہ اے آر ڈی کے جلسے کی نئی تاریخ کا بعدمیں اعلان کر دیا جائے گا۔ اے آر ڈی کے قائدین جلسے کے التواء کی وجہ اگرچہ بارش کا پانی قرار دے رہے ہیں لیکن اخباری اطلاعات کےمطابق مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد نے نواز شریف کو جدہ فون کرکے تئیس مارچ کا اے آر ڈی کاجلسہ منسوخ کرانے کی درخواست کی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||