ملتان: القاعدہ کا مبینہ کارکن گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملتان پولیس نے مبینہ طور القاعدہ سے تعلق رکھنے والے تین مقامی لوگوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ توقع کی جارہی تھی کہ ملتان کے ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) سکندر حیات ایک اخباری کانفرنس کے ذریعے ان گرفتاریوں کے کا اعلان کرینگے البتہ ڈی پی او نے اپنی پریس کانفرنس ملتان شہر میں ہونے والی دوھرے قتل کی کے ملزموں کی گرفتاری تک محدود رکھی۔ ڈی پی او سے جب القاعدہ سے تعلق رکھنے والے کچھ مقامی افراد کی گرفتاریوں کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے باقاعدہ تصدیق تو نہ کی لیکن یہ کہا کےالقاعدہ کے عسکریت پسندوں کے کچھ ساتھی زیر تفتیش ضرور ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق القاعدہ سے تعلق کے شبے میں گرفتار کیے گۓ تین افراد کے نام علی شیر، حافظ اعجاز اور پیر جمیل ہیں۔ ان میں سے علی شیر عسکریت پسند تنظیم حزب المجاہدین کا تربیت یافتہ بتایا جاتا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملتان کے علاقے نگینہ آباد سے تعلق رکھنے والے علی شیر نے عسکری تربیت افغانستان اور پا کستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے کوٹلی سے حاصل کی اور پھر چھ ماہ تک بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں گوریلا کارروائیوں میں مصروف رہا۔ علی شیر بعد میں افغانستان چلا گیا جہاں اس کے رابطے القاعدہ کی قیادت کے ساتھ استوار ہوگۓ۔ افغانستان سے واپس آنے کے بعد سال دو ہزار تین میں جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا چلا گیا وہاں اس کا رابطہ ثمرقند کے عبدالرحمان عرف کینیڈی مصری، ابو حارث ترکمانستانی اور ابو خالد ترکمانستانی جیسے عسکریت پسند گروہوں سے ہو گیا۔ پاکستانی حکام نے وانا میں فوجی آپریشن کے دوران باگڑ کے مقام پر عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کرائی تو متذکرہ بالا گروہوں کے سربراہ ہلاک ہوگۓ۔ جس پر علی شیر فرار ہوکر ملتان واپس آگیا۔ تاہم یہاں آکر بھی اس نے حاجی عبدالرحمان وزیر سے رابطہ رکھا اور جنوبی وزیرستان میں محصور دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والےجہادی افراد کو فرار کرانے میں مددکرتا رہا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ علی شیر نے ایک مصری عسکریت پسند اور اس کے اہل خانہ کو وانا سے ملتان اور پھر ایبٹ آباد تک پہنچانے میں مدد کی جس کی گرفتاری پر لاکھوں ڈالر انعام مقرر ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ علی شیر اور اس کے ساتھی مطلوب شخص کو واپس مصر بھجوانے کی تیاری کر رہے تھے کہ گرفتار کر لیے گۓ۔ تاہم پولیس ذرائع نے مذکورہ مصری شخص کی شناخت اور گرفتاری بارے بتانے سے گریز کیا۔ حکام کا کہنا ہے وہ علی شیر کے مختلف ای میلز کا جائزہ لے رہے ہیں جس سے مزید اہم معلومات ملنے کا امکان ہے۔ القاعدہ سے تعلق کے شبے میں گرفتار دوسرے افراد میں سے حافظ اعجاز کا تعلق پنجاب کے ضلع لیہ اور پیر جمیل کا تعلق ملتان سے بتایا جا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||