مبشر زیدی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 |  زلمے خلیل زاد نےپاکستان پر طالبان کے خلاف کاروائی نہ کرنے کے الزام عائد کئےہیں |
امریکی صدر جارج بش نے منگل کو پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف سے ٹیلیفون پر بات کی جس میں افغانستان کی صورتحال سمیت کئی معاملات زیر بحث آئے ہیں۔ صدارتی ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان دہشت گردی کے خلاف جنگ، افغانستان کی صورتحال اور پاک، بھارت امن مذاکرات زیر بحث آئے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ یا صدر کے دفتر سے اس بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ امریکی صدر جارج بش نے ایسے وقت میں اپنے پاکستانی ہم منصب سے بات کی ہے جب افغانستان میں امریکہ کے سفیر زلمے خلیل زاد کی طرف سے پاکستان پر طالبان رہنماؤں کے خلاف مناسب کاروائی نہ کرنے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ افغان حکام نے پیر کو تین پاکستانیوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے امریکی سفیر پر قاتلانہ حملے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ اس بات چیت کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف نے افغانستان کے صدر حامد کرزئی سے بھی ٹیلیفون پر بات کی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان جلیل عباس جیلانی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بات چیت میں دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات پر بات کی ہے۔ ادھر افغانستان کے صدارتی ترجمان نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سر زمین پر موجود طالبان عناصر کے خلاف کارروائی کرے۔ صدارتی ترجمان جاوید لودین نے کہا کہ افغانستان میں تب تک امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک کہ دونوں ممالک یکجا ہوکر دہشت گردی کے خلاف نہیں لڑتے۔ |