’فوج کا کوئی سیاسی کردار نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ سیاست میں فوج کا کوئی کردار نہیں ہے اور یہ کہ منتخب حکومت قانون سازی اور اپنے فیصلوں میں مکمل بااختیار ہے۔ کوئٹہ میں کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کی صد سالہ تقریبات کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے صدر پرویز مشرف نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ فوج سیاست میں ملوث ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ فوج اپنے بیرکس میں موجود ہے اور حکومت قانون سازی اور اپنے فیصلوں میں آزاد ہے۔ صرف وہ حکومت کی کارکردگی پر نظر رکھنے کے لیے موجود ہیں۔ اس تقریب میں کالج سے فارغ ہونے والے ملکی اور غیر ملکی افسران کے علاوہ زیر تعلیم فوجی افسران بھی موجود تھے۔ صدر مشرف نے اس تاثر کو بھی غلط قرار دیا ہے کہ پاکستان امریکہ کے زیر اثر ہے بلکہ انھوں نے اس بات پر زور دے کر کہا ہے کہ پاکستان میں خارجہ پالیسی ملکی مفاد میں بنائی گئی ہے اور امریکہ پاکستان کا اچھا دوست ملک ہے۔ کمانڈ اینڈ سٹاف کالج انیس سو پانچ میں قائم کیا گیا تھا اس سے پہلے یہ کیڈٹ کالج کے طور پر کام کر رہا تھا۔ صدر پرویز مشرف اسی کالج کے طالبعلم رہ چکے ہیں۔ صدر مشرف نے ہفتے کے روزصوبائی کابینہ کے ارکان سے خطاب کیا جس میں انھوں نے کہا ہے کہ بلوچستان میں کوئی فوجی کارروائی نہیں ہو رہی اور سوئی میں فوج کی تعیناتی کا مقصد قومی تنصیبات کی حفاظت ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اگر کوئی فرنٹیئر کور پر حملہ کرے گا تو اس کے لئے جوابی کارروائی ضرور ہو گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||