بلوچستان کا سیاسی حل زیرِ غور ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ڈیرہ بگٹی اور سوئی کے مسئلے کا سیاسی حل تلاش کیا جار ہا ہے وہاں کوئی فوجی کارروائی نہیں ہو رہی تاہم حکومت اس سلسلے میں کوئی دباؤ برداشت نہیں کرے گی۔ کوئٹہ سے کوئی ایک سو تیس کلومیٹر دور جنوب میں قلات کے مقام پر گیس کی فراہم کے منصوبے کا افتتاح کرتے ہوئے صدر پرویز نے کہا ہے صوبہ بلوچستان میں کوئی ایک سو تیس ارب روپے کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں جو صوبے کے حق سے کہیں زیادہ ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ پاکستان بلوچستان کے بغیر اور بلوچستان پاکستان کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ڈیرہ بگٹی اور سوئی کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہے سوئی میں ایک چھوٹے سے مسئلے کو بڑھایا گیا ہے اور وہاں سردار صرف اپنے محدود علاقے کا سردار ہوتا ہے انھیں پورے بلوچستان کے بارے میں فیصلے کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ صوبائی خود مختاری کے بارے میں انھوں نے کہا ہے کہ وہ خود قوم پرستوں سے زیادہ اس کے حامی ہیں اور اس بارے میں انھوں نے وزیر اعظم سے کہا ہے کہ اس پر پارلیمنٹ میں بحث کرائی جائے۔ قومی مالیاتی کمیشن کے بارے میں انھوں نے کہا ہے کہ صوبوں کو ان کا حق ملنا چاہیے۔ صدر مشرف نے کہا ہے کہ وہ ڈیموں کے بارے میں بڑے فیصلے کرنے والے ہیں جس کے لیے انھیں عوام کی حمایت چاہیے۔ صدر مشرف کوئٹہ میں دو دن قیام کریں گے جہاں وہ کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کی صد سالہ تقریبات میں شرکت کریں گے۔ ان تقریبات کے لیے پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک سے بڑی تعداد میں مہمان کوئٹہ پہنچ گئے ہیں۔ کوئٹہ چھاونی کے علاقے میں عام شہریوں کو اجازت نامے کے بغیر جانے نہیں دیا جا رہا۔ صدر ژوب میں روڈ کا افتتاح بھی کریں گے۔ جمعہ کو کوئٹہ میں تاجر برادری نے مہنگائی اور مقامی تاجروں کو درپیش مسائل کے حوالے سے مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی ہے۔ آج شہر میں تمام کاروباری مراکز اور دکانیں بند رہی ہیں ۔ اس دوران کسی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقع پیش نہیں آیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز اپنے آپ کو محکوم کہلوانے والی قوم پرست جماعتوں کی اپیل پر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی تھی جبکہ کل یعنی سنیچر کے روز مجلسِ عمل کی اپیل پر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا ئے گی جس کے لیے کوٹہ سمیت صوبے کے دیگر علاقوں میں تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||