BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 March, 2005, 07:34 GMT 12:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان کا معاشی منظرنامہ

بلوچستان
بلوچستان کی بیشتر زمین بارانی یا خشکابہ کہی جاتی ہے
سوئی سے نکلنے والی قدرتی گیس اور گوادر کے تنازعے، ایک طرف بلوچستان میں اور بہت کچھ ہو رہا ہے جس میں صوبے میں زرعی ترقی، صنعتی علاقہ اور آر سی ڈی شاہراہ بننے سے یہاں کی معاشی زندگی پر پڑنے والے اثرات خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

آر سی ڈی شاہراہ سردار عطا اللہ مینگل کے علاقے خضدار سے گزرتی ہے جہاں بڑی سڑک بننے سے قبائلی نظام کمزور ہوا ہے اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ساتھ ہی یہاں کے لوگوں کا کراچی تک آنا جانا بھی آسان ہوگیا ہے۔

بلوچستان کی بیشتر زمین بارانی یا خشکابہ کہی جاتی ہے۔ یہاں زراعت کے لیے بارش کے پانی کے علاوہ کاریزوں کے روایتی طریقے کو استعمال کیا جاتا تھا لیکن اب ٹیوب ویل عام ہوگئے ہیں۔

بلوچستان حکومت ہر سال ٹیوب ویلوں کو سستی بجلی دینے کے لیے واپڈا کو ڈیڑھ ارب روپے سے زیادہ کی سبسڈی اداکرتی ہے۔

حالیہ برسوں میں بلوچستان خشک سالی کی وجہ سے شدید متاثر ہوا۔ سابق سیکریٹری آپباشی منور خان مندوخیل کے مطابق یہ خشک سالی انیس سو اٹھانوے سے شروع ہوئی اور صوبہ میں چشمے، کاریزیں (کنوؤں کا سلسلہ) اور کنویں خشک ہوگئے اور زیر زمین پانی نیچے چلا گیا جس سے ٹیوب ویلوں میں بھی پانی آنا کم ہوگیا۔

اس کی وجہ سے صوبے کے باغات، گلہ بانی اور زراعت کو شدید نقصان پہنچا۔ ماہر آبپاشی کا کہنا ہے کہ آٹھ سالہ خشک سالی کے اثرات اتنے زیادہ ہیں کہ اس سال ہونے والی بارش اور برفباری سے بھی یہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔

بلوچستان کے محکمۂ آبپاشی کا کہنا ہے بلوچستان میں ہر سال تقریباً پونے تیرہ ملین ایکڑ فٹ سیلابی پانی آتا ہے جس میں سے اس وقت صرف تقریباً پونے تین ملین ایکڑ فٹ پانی کو روک کر زراعت میں آبپاشی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

جبکہ باقی پانی ریگستانوں اور دریائے سندھ میں گر کر ضائع ہوجاتا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اس تمام سیلابی پانی کو روک کر آبپاشی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

حکومت کو بھی اس حقیقت کا احساس ہوا اور صوبے میں جگہ جگہ ڈیم بنائے گئے ہیں اور بیس سے زیادہ ڈیمز کی تعمیر ہر صوبائی بجٹ میں رکھی جاتی ہے تاکہ سیلابی پانی کو روک کر زمین کے نیچے پانی کو ری چارج کیا جا سکے اور کچھ ڈیم ایسے ہیں جو چھ ماہ تک پانی کو ذخیرہ کر سکیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ اب بھی صوبے میں چالیس سے زیادہ ایسے مقامات ہیں جہاں سیلابی پانی کو روک کر صوبے میں بارہ لاکھ ایکڑ سے زیادہ اراضی کی آبپاشی کی جا سکتی ہے اور اسے زرعی استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

آجکل مری بگتی پراجیکٹ کے نام سے پانچ مقامات پر حکومت حفاظتی سیلاب کے ایک بڑے منصوبے کی تعمیر کر رہی ہے جن میں سے ایک منصوبہ مکمل ہو چکا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مری بگتی کے پہاڑی علاقوں سے سیلابی پانی کے ریلے کو روک کر میدانوں میں کاشت کاری کے لیے استعمال کیا جائے۔ اس سے پچاس ہزار ایکڑ اراضی سیراب ہونے کی توقع ہے۔

بلوچستان کے اضلاع نصیرآباد اور کچھی کے لیے سوا تین ارب روپے سے پانچ سو کلومیٹر لمبی کچھی کینال بھی تعمیر کی جا رہی ہے جس سے سرکاری دعووں کے مطابق سات لاکھ ایکڑ زمین سیراب ہو سکے گی جو زیادہ تر کچھی کے علاقہ میں ہے۔

تاہم بلوچستان کے شعبۂ آبپاشی کے بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھی نہر سے شاید بلوچستان کو اتنا فائدہ نہ ہو جس کی توقع کی جارہی ہے کیونکہ یہ نہر تونسہ بیراج سے نکالی جارہی ہے اور راستے میں تین سو کلومیٹر پنجاب سے گزر کر سوئی سے ذرا پہلے بلوچستان میں داخل ہوگی۔

بلوچستان کے ماہرین کا خدشہ ہے کہ راستے میں دوسری نہروں کی طرح اس کا پانی پمپوں کے ذریعے چوری کیا جائے گا۔ بلوچستان حکومت نے یہ نہر کوٹ مٹھن سے نکالنے کی تجویز دی تھی تاکہ نہر کا زیادہ حصہ بلوچستان سے گزرے لیکن اسے منظور نہیں کیا گیا۔

بلوچستان
زراعت کے علاوہ ماہی گیری بھی بلوچستان کے لئے اہم

زراعت کے علاوہ ساحلی علاقوں پر مچھلیوں اور جھینگوں کی پیداوار بھی بلوچستان کا ایک بڑا ذر یعہ معاش ہے۔ ضلع لسبیلہ بھی ساحلی پٹی پر واقع ہے۔ یہاں گوادر کے ساتھ ساتھ جیوانی، پسنی، اورماڑہ اور سونمیانی کی بندرگاہیں اور گڈانی واقع ہیں۔ بلوچستان کے ساحل سے مچھلیوں اور جھینگوں کی پیداوار دنیا میں دوسرے ساحلوں کے مقابلہ میں زیادہ بتائی جاتی ہے۔

لسبیلہ کے علاقہ میں چیکو اور کیلے کے پھل بہت بڑی مقدار میں پیدا ہوتے ہیں۔ مکران (گوادر، لسبیلہ وغیرہ) کے علاقہ میں لاکھوں ٹن کھجور اور شمالی بلوچستان میں لاکھوں ٹن سیب اور دوسرے پھل پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان ملک میں پیدا ہونے والی بھیڑ بکریوں میں چالیس فیصد سے زیادہ پیدا کرتا ہے۔

لورالائی ماربل کان کنی کا بڑا مرکز ہے اور یہاں ماربل سٹی آباد ہے۔ بلوچستان میں اس وقت موجود ماربل کی صنعت سے تیس ملن ڈالر کی برآمدات ہوتی ہیں۔ یہاں کی کانوں سے سالانہ بیس لاکھ ٹن کوئلہ نکالا جا رہا ہے۔ تاہم یہاں بلوچ مزدور کام نہیں کرتے۔

سوئی گیسبلوچ کہانی،14
سوئی گیس، ایک دولت یا محرومی
بلوچبلوچ کہانی،12
سوئی کی چار سو ایکڑ زمین کا مالک کو ن ہے؟
قبضہ یا تحفظ
بلوچستان میں فوجی چھاؤنیاں کہاں اور کیوں؟
بلوچستان: پسماندگی اور شکایتوں کا لاواپسماندگی اور وفاق
بلوچ پسماندگی اور شکایات کا لاوا ابل رہا ہے
سوئیسوئی: حالات معمول پر
سوئی میں زندگی معمول پر آ رہی ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد