’مجھے نشانہ بنانے کی کوشش ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں بگتی قبیلے کے سردار نواب اکبر بگتی نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈیرہ بگٹی میں ایف سی کے دستوں اور بگتی قبائل کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے اور اس لڑائی میں تیس سے چالیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس میں کئی بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں۔ دوسری طرف فرنٹیئر کور یا نیم فوجی دستے کے ترجمان نے بتایا ہے کہ ان کے دو اہلکار ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم انہوں نے بگتی قبائل اور ڈیرہ بگتی میں شہریوں کی ہلاکت کے بارے میں لاعملی کا اظہار کیا۔ بی بی سی اردو سروس کو ڈیرہ بگتی سے انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بگتی قبیلے سے جاری لڑائی میں ایف سی کے دستوں نے بھاری اسلحہ کا استعمال کیا ہے اور ان دستوں کو فوج کے گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی حاصل ہے۔ نواب اکبر بگتی نے کہا کہ جمعرات کی صبح بگتی گارڈز کی ایک گاڑی پر ایف سی کے اہلکاروں نے بلا اشتعال فائرنگ کر دی جس میں چھ محافظ زخمی ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ بگتی قبائل نے جوابی فائرنگ کی جس پر ڈیرہ بگتی کے گرد و نواح میں موجود ایف سی کی تمام چوکیوں نے بھاری اسلحہ کا فائر کھول دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایف سی کی طرف سے فائر کیے گئے کئی مارٹر گولے ڈیرہ بگتی شہر کے ہندو محلے پر گرے اور ہندو برادری کے کئی لوگ ہلاک ہو گئے جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ نواب اکبر بگتی نے کہا کہ ایف سی نے انہیں بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ اکبر بگتی نے کہا کہ وہ سٹلائٹ فون پر بات کر رہے جب ان کے چند فٹ کے فاصلے پر کئی گولے آ کر گرے۔ انہوں نےخیال ظاہر کیا کہ ایف سی نے سٹلائٹ فون کی لہروں سے اندازہ لگا کر ٹھیک اس جگہ گولے داغے جہاں وہ موجود تھے۔ انہوں الزام لگایا کہ حکومت ان کو ختم کرنا چاہتی ہے۔
نواب اکبر بگتی نے کہا کہ سوئی سے ایف سی کے لیے کمک بھیجی گئی جس کو لوگوں نے شہر کے باہر روک لیا ہے اور شہر کے باہر گھمسان کی جنگ شروع ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ جنگ بلوچستان کے تیل اور گیس کے ذخائر کے لیے ہو رہی ہے۔ ڈاکٹر شازیہ کیس کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے صدر جنرل مشرف پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ’پیٹی بھائی‘ کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے لیے وہ ہر حربہ استعمال کر رہے ہیں۔ سوئی کی تازہ ترین صورت حال بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فضا میں گن شپ ہیلی کاپٹر گشت کر رہے ہیں اور شہر میں بکتر بند گاڑیوں اور توپوں کے ذریعے لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب پر انہوں نے کہا کہ یہ جنگ تو ابھی شروع ہوئی ہے اور وہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ کہاں تک جائے گی اور کہاں ختم ہو گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||