BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 March, 2005, 07:21 GMT 12:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تصفیئے کے لیے حکومتی تجاویز‘

News image
نواب اکبر بگتی پارلیمانی کمیٹی کی رکن شیری رحمان کے ساتھ
حکومت کی طرف سے سیاسی سطح پر بلوچستان کے مسئلے کےحل کی ایک اور کوشش میں اعلیٰ سطح پر حکومت نے نواب اکبر بگتی کو نئی تجاویز پیش کی ہیں۔

یہ تجاویز جمعرات کو مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین اور سیکریٹری جنرل مشاہد حسین نے ڈیرہ بگتی میں نواب اکبر بگتی سے ملاقات کے دوران پیش کیں۔

چار گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والی اس ملاقات کے بعد مشاہد حسین نے کہا کہ چودہری شجاعت حسین اور نواب اکبر بگتی کی ملاقات میں بلوچستان کے مسئلے کے حل راہ میں جو تعطل تھا وہ ٹوٹا ہے اور اس مسئلے کا حل بھی نکلے گا۔

نواب اکبر بگتی نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا: چودہری شجاعت حسین اور مشاہد حسین نے دو تین دن کی مہلت مانگی ہے اور کہا ہے کہ وہ حکومت سے بات کر کے تصفیہ کرانے کی کوشش کریں گے۔‘

مشاہد حسین نے ڈیرہ بگتی سے واپسی پر سکھر ائرپورٹ پر بی بی سی سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور بعد میں فریقین نے ایک دوسرے پر اظہار اعتماد کیا۔انہوں نے کہا کہ اس ملاقات میں جو ماحول بنا ہے وہ اس مسئلے کے حل کی طرف جائے گا۔

اس سوال پر کہ کیا حکومت نے نواب اکبر بگتی کو کوئی پیکج آفر کیا ہے مشاہد حسین نے کہا کہ وہ اس موقع پر اس ملاقات کی مزید تفصیل نہیں بتا سکتے۔تاہم انہوں نے کہا کہ یہ ملاقات ہونا ہی اس بات کی نشانی ہے کہ ایک مثبت ماحول بنا ہے جس کے نتائج بھی مثبت ہوں گے۔

تین گھنٹے تک جاری رہنے والی رہنے والی اس ملاقات میں بلوچستان میں کشیدگی اور فرنٹیئر کور اور بگتی قبائل کے درمیان فائرنگ کے تبادلے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں پر بالخصوص بات چیت ہوئی۔

کوئٹہ میں ہمارے نامہ نگار عزیز اللہ نے بتایا ہے کہ مذاکرات کے دوارن چودہری شجاعت حسین نے کئی مرتبہ سیٹ فون پر کہیں بات کی۔

نواب اکبر بگتی کا کہنا تھا کہ جمعرات کی ملاقات کی ضرورت گزشتہ ہفتے ڈیرہ بگتی میں فرنٹیئرکور اور بگتی قبائل کے درمیان فائرنگ کے تبادلے اور اس کے نتیجے میں دونوں جانب ہونے والے جانی نقصان کے تناظر میں ہوئی ہے۔

جب نواب اکبر بگتی سے پوچھا گیا کہ کیا وہ حکومتی نمائندوں سے مذاکرات پر مطمئن ہیں، تو ان کا جواب تھا : ایک حد تک‘۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کا اظہارِ اطمینان حکومتی تجاویز پر عمل درآمد سے مشروط ہے۔

بلوچستان کے علاقے سوئی اور ڈیرہ بگتی میں گزشتہ تین مہینے سے قبائیلیوں اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے درمیان شدید جھڑپیں ہوتی رہیں ہیں اور ابھی تک علاقے میں شدید کشیدگی کی اطلاعات ہیں۔

دو روز قبل حکومت اور حزب اختلاف کے ارکان پارلیمنٹ کے ایک مشترکہ وفد نے بھی سوئی اور ڈیرہ بگتی کا دورہ کیا تھا۔اس دورے کے دوران نواب اکبر بگتی نے کہا تھا کہ بلوچستان پر پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ شجاعت حسین اور مشاہد حسین بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ ہیں۔

اس سے قبل چوہدری شجاعت نے پیر کو صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیرِاعظم شوکت عزیز سے ملاقات کی تھی اور صحافیوں کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ صدر مشرف نے بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے پارلیمنٹ کو مکمل اختیار دے دیا ہے۔

بلوچ قوم پرست رہنما حکومت پر الزام لگاتے آئے ہیں کہ ان کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ہے اور بلوچستان کے مسئلے پر فیصلہ کرنے کے تمام اختیارات صدر جنرل مشرف کے پاس ہیں۔

تاہم چوہدری شجاعت کے حالیہ بیان کے بعد اس معاملے پر برف پگھلتی نظر آتی ہے اور نواب اکبر بگتی نے چوہدری شجاعت سے ملاقات کرنے کی حامی بھری ہے۔

چوہدری شجاعت ڈیرہ بگتی سے واپسی پر قومی اسمبلی میں پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت بھی کریں گے جس نے اس مسئلے کے حل کے لئے سفارشات مرتب کی ہوئی ہیں اور ان کا صرف اعلان ہونا باقی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد