’حکومت پھر کوئی بہانہ بنائے گی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی حکومت کے اعلان کے مطابق سیاسی جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ منگل کو ڈیرہ بگٹی کا دورہ کریں گے لیکن جمہوری وطن پارٹی کے قائدین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اول تو یہ دورہ ہو گا ہی نہیں اور اگر اراکین اسمبلی کو ڈیرہ بگٹی لے آئے تو انھیں نواب اکبر بگٹی سے ملنے نہیں دیا جائے گا۔ ڈیرہ بگٹی میں جاری کشیدگی کے حوالے سے قومی اسمبلی کے اراکین کو اتوار کے روز ڈیرہ بگٹی لانا تھا لیکن اس وقت انھیں سکیورٹی کلیرنس نہیں دیا گیا۔ اب ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم شوکت عزیر اور وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے اپوزیشن اور حکومتی اراکین کو ڈیرہ بگٹی لے جانے کا کہاہے جہاں انھیں حالیہ واقعات کے حوالے سے دورہ کرایا جائے گا۔ اس حوالے سے جمہوری وطن پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری آغا شاہد بگٹی نے اسے ایک اچھا فیصلہ قرار دیا ہے لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ ایک مرتبہ پھر کوئی بہانہ بنا کر اراکین کو ڈیرہ بگٹی کا دورہ نہیں کرایا جا ئے گا۔ شاہد بگٹی نے کہا ہے کہ اگر یہ دورہ کرایا گیا تو پہلے کی طرح ایف سی کے فائر کردہ خالی خول اراکین کو دکھائے جائیں گے کہ یہ سب نواب اکبر بگٹی کے لوگوں نے فائر کیے ہیں اور اراکین کو نواب اکبر بگٹی سے ملنے نہیں دیا جائے گا۔ ان سے جب پوچھا کہ اگر نواب اکبر بگٹی سے یہ ملاقات ہو جائے اور پورے شہر کا دورہ بھی کرا دیا جائے تو انھوں نے کہا ہے کہ وہ حکومت کو شاباش دیں گے۔ شاہد بگٹی نے کہا ہے کہ اسمبلی میں جب اس موضوع پر بحث ہو رہی تھی تو وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے اس کی مخلافت کی تھی اور کہا تھا کہ یہ دورہ پھر کبھی کرا یا جائے گا۔ اس سے قبل مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے بلوچستان کے مسئلے پر پارلیمنٹ کی کمیٹی کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ انہیں صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس مشترکہ وفد کو تمام تر مدد اور اختیارات فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کی ان درخواستوں کو منظور کر لیا ہے جن میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ بلوچستان میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہو گا اور فوج اپنی پہلی پوزیشن پر واپس چلی جائے گی اور تمام معاملات پارلیمنٹ کے ذریعے حل کیے جائیں گے۔ چوہدری شجاعت نے کہا کہ حکومت کو اس بات کا ادراک ہے کہ بلوچستان میں 1977 جیسے حالات دوبارہ نہ پیدا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے مسئلے پر ان کی صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات ہوئی ہے جس کے بعد وزیر اعظم شوکت عزیز بھی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں آئے۔ ان کے مطابق صدر اور وزیراعظم نے کہا ہے کہ یہ کسی کی انا اور ضد کا مسئلہ نہیں ہے اور پالیمنٹ کے ذریعے تمام مسائل کا حل نکالا جائے گا۔ سوئی اور ڈیرہ بگتی جانے والی کمیٹی میں مسلم لیگ،پاکستان پیپلز پارٹی،متحدہ قومی موومنٹ، دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل اور چند قوم پرست جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ شامل ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||