BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 20 March, 2005, 12:27 GMT 17:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان درگاہ دھماکا، 49 ہلاک

 ٹرین دھماکہ
گزشتہ روز بھی بلوچستان جانے والی اور وہاں سے آنے والی ٹرینوں میں دھماکہ ہوا
بلوچستان کے شہر گندھاوا میں فتح پور بارگاہ کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ کم سے کم انچاس افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہو ئے ہیں۔

تاہم سرکاری ذرائع دھماکے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد سرکاری سطح پر ستائیس بتائی گئی ہے لیکن ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ دھماکے کے بعد کچھ لوگ اپنے طور پر زخمیوں اور ہلاک ہونے والے افراد کو اپنے ساتھ لے گئے تھے جن کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔

فتح پور بارگاہ کے ایک اہلکار فقیر غلام حسین نے بتایا ہے کہ چوالیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کل رات گئے ہو گئی تھی اور پانچ افراد جیکب آباد ہسپتال پہنچنے سے پہلے راستے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

یاد رہے کہ کل رات کوئٹہ سے کوئی تین سو کلومیٹر دور گندھاوا میں سائیں رکھیل شاہ اور سائیں چیزل شاہ کے عرس کے موقع پر دھماکہ ہوا تھا۔

گندھاوا کے ضلعی رابطہ افسر محمود مری نے بتایا ہے کہ رات کے وقت جب لنگر تقسیم کیا جا رہا تھا تو اس وقت اچانک دھماکہ ہوا ہے ۔

گندھاوا کوئٹہ سے کوئی تین سو کلومیٹر دور جنوب میں واقع ہے۔

اس عرس میں ہزاروں افراد شریک تھے اور ضلعی رابطہ افسر نے کہا ہے کہ اس طرح کا واقعہ یہاں پہلے کبھی نہیں ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق نا معلوم افراد نے اس درگاہ میں دو بم نصب کیے تھے لیکن ایک ہی بم پھٹا ہے جبکہ دوسرے بم کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔

بلوچستان میں سیاسی بے چینی بھی ہے اور فرقہ ورانہ منافرت بھی لیکن گندھاوا میں فرقہ ورانہ منافرت دیکھے میں نہیں آئی اور اس علاقے میں یہ اس طرح کا پہلا واقع ہے۔

ابھی تک کسی گروہ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

اس کے علاوہ ادھر تربت میں دو دھماکے ہوئے ہیں جن میں کم سے کم چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ دونوں دھماکے کوئی دس منٹ کے وقفے سے ہوئے ہیں۔ تربت سے آمدہ اطلاعات کے مطابق پہلا دھماکہ کمشنری بازار میں فرنٹیئر کور کے کیمپ کے قریب ہوا ہے جبکہ دوسرا دھماکہ تھانہ روڈ پر ہوا ہے جس میں چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں محکمہ آبپاشی کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد