بلوچستان میں سیزفائر ہے: عزیز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیراعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ بلوچستان میں فوجی کارروائی نہیں کی جارہی اور اس وقت وہاں پر سیز فائر ہے۔ شوکت عزیز نے آج پنجاب کے وزیراعلی چودھری پرویز الہی سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے مختصر بات چیت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ امن و امان قائم رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اگر سیکیورٹی فورسز پر حملہ کیا جائے تو جوابی کاروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں فرنٹئیر کور پر حلمہ کیا گیا جس میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے اور جوابی کاروائی میں سویلین بھی مارے گئے ہوں گے۔ تاہم وزیراعطم نے کہا کہ اس وقت وہاں خاموشی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلہ کا دیرپا اور پایئدار حل نکالنے کے لیے مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ پارلیمانی کمیٹی کا کام آگے بڑھے۔انہوں نے کہا کہ پیر کے روز سے یہ کمیٹی اپنا کام شروع کرے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان کی سیکیورٹی کمیٹی حالات کا جائزہ لے رہی ہے اور جیسے ہی وہاں حالات بہتر ہوئے تو ارکان پارلیمان اور صحافیوں کو وہاں پر بھیجاجائے گا۔ یاد رہے حکومت کی جانب سے ارکان پارلیمان اور صحافیوں کا سوئی کے دورہ کے لیے آج کا پروگرام تھا جو صبح کو ملتوی کردیا گیا۔ وزیراعظم شوکت عزیز نے کہا کہ ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے گیس پائپ لائن لانے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے اور پاکستان چاہتا ہے کہ بھارت بھی اپنی ضروریات کے لیے اس منصوبہ میں ساتھ چلے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور ایران کے وزرا اس مقصد کے لیے پاکستان آرہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ گیس پائپ لانے کے لیے چار مختلف آپشنز زیر غور ہیں جن میں قطر، ترکمانستان اور ایران سے گیس پائپ لائن لانے اور لیکویفائڈ گیس درآمد کرنے کے منصوبے شامل ہیں اور اس سال کے آخر تک اس بارے میں فیصلہ کرلیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایران سے پائپ لائن لانے پر امریکی تحفظات ہیں اور اگر امریکی دباؤ میں اضافہ ہوا تو بھی پاکستان اپنا مفاد دیکھے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||