60 ہلاک، بگتی: لاعلم ہیں، حکومت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈیرہ بگتی میں فائرنگ کے تبادلے میں فرنٹیئر کور کے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تعداد پانچ ہوگئی ہے جبکہ انیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں جبکہ دوسری جانب نواب اکبر بگتی کا کہنا ہے کہ کم سے کم ساٹھ شہری ہلاک ہوئے ہیں اور یہ تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔ ڈیرہ بگتی میں حالات انتہائی کشیدہ بتائے گئے ہیں۔ ایک مقامی شخص نے سیٹیلائیٹ فون پر بتایا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ میدان جنگ میں ہیں جہاں ہر طرف دھماکے اور فائرنگ کی آوازیں آرہی ہیں۔ دوپہر کے وقت نواب اکبر بگتی سے ٹیلیفون پر باتیں کرتے ہوئے اس نامہ نگار نے دھماکوں کی آوازیں سنیں تھیں۔ ادھر فرنٹئیر کور کے آئی جی شجاعت ضمیر ڈار اور صوبائی وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی نے کہا ہے کہ ڈیرہ بگتی میں فائر بندی رات آٹھ بجے ہوگئی ہے۔ جبکہ نواب اکبر بگتی نے کہا ہے کہ پیٹرول پمپ اور فلور مل کے قریبی علاقوں میں رات گئے تک فائرنگ ہوتی رہی ہے۔ اس ساری کارروائی میں ایف سی کا دعوی ہے کہ بگتی قبائل نے پہلے فائر کیا ہے جس سے ان کے پانچ اہلکار موقع پر زخمی ہو ئے ہیں جبکہ نواب اکبر بگتی نے کہا ہے کہ ایف سی کے اہلکاروں نے پہلے حملہ کیا ہے اور یہ کہ کمزور کبھی حملہ آور نہیں ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ انھوں نے کوئی ایف سی کی اہلکاروں کو گھیرے میں نہیں لیا ہے وہ خود ان کے اپنے گھیرے میں ہوں گے۔ انھوں نے کہاہے کہ ایف سی کے اہلکاروں نے شہری آبادی کو نشانہ بنایا ہے جہاں زیادہ تر ہندو آبادی کے مرد خواتین اور بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ کل شام قوم پرست جماعتوں کے قائدین اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کے اراکین اسمبلی نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ یہاں یہ امر قابل زکر ہے کہ ڈیرہ بگتی اور سوئی کی ٹیلیفون ایکسچینج کو دو ہفتے پہلے آگ لگا دی گئی تھی جسے اب تک مرمت نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہاں آزاد زرائع سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔ ایف سی اور بگتی قبائل اپنے اپنے طور پر دعوے کر رہے ہیں اور صوبائی وزیر داخلہ نے اخباری کانفرنس میں ہلاکتوں کے بارے مکمل لا علمی کا اظہار کر دیا |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||