حکومتی اقدام کا رد عمل ہوگا: بگٹی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ نواب اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ ان کا قبیلہ سوئی کے مقام پر قدرتی گیس کی تنصیبات کا چون سال سے تحفظ کر رہا ہے۔ نواب اکبر بگٹی نے یہ بیان حکومت کی طرف سے سوئی گیس کی تنصیبات کے تحفظ کے لیے ہر ممکنہ اقدامات کے فیصلے پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے دیا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صورتحال کے تدارک کی ذمہ داری حکومت کی ہے اور وہ صرف رد عمل ظاہر کر سکتے ہیں۔ رد عمل کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس کا انحصار حکومتی اقدام پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوئی کے دونوں پلانٹ محفوظ ہیں اور صرف پائپ فائرنگ سے متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پائپ کو نقصان پہلے بھی ہوتا رہا ہے۔ سوئی میں فائرنگ کے حالیہ واقعات کے بارے میں نواب بگٹی نے کہا کہ یہ ایک لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ ’زنا بالجبر‘ کے نتیجے میں پیش آئے۔ انہوں نے کہا کہ فائرنگ ان اہلکاروں کے کیمپ پر کی گئی جو اس واقعے میں ملوث تھے۔ نواب بگٹی نے کہا کہ فائرنگ میں یقیناً بگٹی قبیلہ کے کچھ افراد بھی ملوث ہوں گے لیکن یہ ’گولیاں بلوچ لبریشن فرنٹ کے لوگ چلا رہے تھے، اور انہوں نے اس کا اعتراف بھی کیا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ فائرنگ بگٹی ہاؤس سے ہوئی کیونکہ وہاں صرف نوکر اور چوکیدار رہتا ہے اور ڈیرہ بگٹی سوئی سے اکتیس کلومیٹر دور ہے۔ اس سے قبل وزیر اطلاعات شیخ رشید نے نواب اکبر بگٹی کے اس الزام کے جواب میں کہ ان کے یا وزیر داخلہ کی وجہ سے حالات خراب ہو رہے ہیں کہا کہ ’بگٹی صاحب کا احترام اپنی جگہ لیکن میں کسی سردار کا مزارع نہیں ہوں‘۔ شیخ رشید نے کہا کہ حکومتی اقدامات ان افراد کہ خلاف ہیں جو قومی تنصیبات پرحملوں میں ملوث ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||