بگتیوں پر پی پی ایل کے خرچے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوئی سے نکلنے والی قدرتی گیس کی اربوں روپے کی آمدن سے مقامی آبادی کی محرومی بلوچ قوم پرستوں کا ایک بڑا نعرہ ہے تاہم اسلام آباد ایک یکسر مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔ ضلع ڈیرہ بگتی کی تحصیل سوئی میں ملک کی سب سے بڑی گیس تنصیبات ہیں۔ انیس سو باون میں گیس کے ذخائر دریافت ہوئے اور ان کو نکالنے اور ملک بھر میں ہزاروں میل لمبی پائپ لائنوں کے ذریعے اس کی ترسیل کرنے میں حکومت کو بگتی قبیلہ اور اس کے سردار نواب بگتی کا تعاون شامل رہا۔ سوئی گیس کے پلانٹ اور بڑی بڑی پائپ لائنیں اس علاقے میں سینکڑوں کلومیٹر جگہ پر پھیلی ہوئی ہیں۔ پلانٹ کی حفاظت کی غرض سے اردگرد کی وسیع جگہ پر بھی مقامی لوگ کاشتکاری نہیں کرتے۔ ڈیرہ بگتی میں یہ پائپ لائنیں اُچ فیلڈ، پیر کوہ او لوٹی کے علاقوں سے گزرتی ہیں اور وہاں کے قبائل، رائجہ بگتی، پیروانی، چندرانی، نوتانی وغیرہ اپنی زمین اور آبی ذخائر استعمال کرنے کا گیس کمپنی سے کرایہ وصول کرتے ہیں۔ انیس سو ستر کی دہائی میں بلوچستان میں جو قوم پرست عسکری تحریک چلی اس میں ڈیرہ بگتی نے حکومت کا ساتھ دیا اور گیس تنصیبات محفوظ رہیں۔ سوئی کے قدرتی ذخائر سے چھ سو ملین مکعب فٹ گیس روزانہ ملک کو مہیا کی جاتی ہے۔ اس کے عوض ڈیرہ بگتی اور سوئی کے لوگوں کو کیا ملا۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے چوبیس فروری کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ سوئی میں موجود پی پی ایل کے پلانٹ سے ڈیرہ بگتی کو بارہ کروڑ روپے سالانہ دیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ پی پی ایل کے مطابق سوئی قصبہ میں رہنے والوں کو مفت گیس مہیا کی جاتی ہے اور اس قصبہ کا دائرہ دس برسوں میں پانچ کلو میٹر سے بڑھ کر تقریبا دس کلومیٹر ہوچکا ہے۔ سرکاری وزرا نے بیانات میں کہا تھا کہ ڈیرہ بگتی کے سردار نواب اکبر بگتی کو سات کروڑ روپے گیس پلانٹ سے ہر سال دیے جاتے ہیں۔ قوم پرست رہنما اور سابق وزیراعلی بلوچستان اختر مینگل نے کہا کہ یہ بات غلط ہے کہ نواب بگتی کو سات کروڑ روپے ہر سال دیے جاتے ہیں۔
حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین نے بھی کہا کہ نواب بگتی کو ذاتی حیثیت میں کوئی رقم نہیں دی جاتی۔ تاہم کوئٹہ میں سرکاری ذرائع نواب بگتی کو سوئی گیس کی کمپنی پی پی ایل کی جانب سے مہیا کی جانے والی سہولتوں اور پیسوں کی ایک لمبی فہرست پیش کرتے ہیں۔ بی بی سی کو مہیا گئے سرکاری اعداد وشمار کے مطابق پی پی ایل گیس پلانٹ میں اس وقت کُل ایک ہزار آٹھ سو چھیالیس ملازمین کام کرتے ہیں۔ سوئی پلانٹ میں کام کرنے والے مزدور کی تنخواہ شروع میں بائیس ہزار روپے ماہانہ ہے جو حکومت کے انیس گریڈ کے افسر کی تنخواہ کے برابر ہے۔ سوئی گیس پلانٹ کے پلانٹ کے پندرہ سو مزدور ملازمین ہیں جن میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نوے فیصد ملازمین ڈیرہ بگتی کے مقامی بلوچ ہیں۔ تاہم پلانٹ میں تین سو چھتیس افسران ہیں جن میں سے ستاسی فیصد لوگ غیر مقامی ہیں اور باقی مقامی آبادی سے تعلق رکھتے ہیں۔ پی پی ایل کے دو سو بیالیس ملازمین ایسے ہیں جو تنخواہ تو لیتے ہیں لیکن پلانٹ کے لیے کام نہیں کرتے۔ یہ ایک مقامی سردار کے آدمی ہیں۔ ان پر پی پی ایل کا سالانہ سات کروڑ بیس لاکھ روپےخرچ آتا ہے۔ سنہ دو ہزار چار میں پی پی ایل میں ایک سو دو ملازمین بھرتی کیے گئے جن پر سالانہ دو کروڑ اسی لاکھ روپے خرچ آتا ہے اور یہ سب ایک مقامی سردار کے ذاتی ملازمین ہیں۔
پی پی ایل نے ڈیرہ بگتی کو تین فوکر جہاز لے کر دیے ہیں جن کا خرچ اور ان سے وابستہ پچیس ملازمین کا خرچ پی پی ایل ادا کرتی ہے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق پی پی ایل ڈیرہ بگتی کو ان کا کچن چلانے کے لیے دس لاکھ روپے ماہانہ ادا کرتی ہے۔ پی پی ایل ہر سال ڈیرہ بگتی کو نئی گاڑیاں خرید کر دیتی ہے جبکہ پی پی ایل کی دی ہوئی پرانی گاڑیاں پی پی ایل کو ہی کرائے پر دے دی جاتی ہیں۔گاڑیوں کے پٹرول کے لیے پی پی ایل چار لاکھ پچیس ہزار ماہانہ ادا کرتی ہے اور ان کی مرمت پر سات لاکھ پچاس ہزار ماہانہ کا خرچ دیا جاتا ہے۔ حکومت کے مطابق ایک مقامی سردار اور ان کے خاندان کو سوئی سے کراچی جانے اور آنے کے لیے پی پی ایل جہاز کے اخراجات پرداشت کرتا ہے اور کراچی میں ان کے قیام وطعام کے لیے ہوٹل فراہم کرتا ہے۔ سرکار کے مطابق سوئی پلانٹ کے لیے دو ہزار ایکڑ زمین کا کرایہ ڈیرہ بگتی کو ادا کیا جاتا ہے جو دس ہزار روپے فی ایکڑ سالانہ ہے۔ نواب بگتی سوئی اور ڈیرہ بگتی کو پس ماندہ رکھنے کا الزام لگاتے ہیں۔نواب اکبر بگتی کہتے ہیں کہ سارا ملک سوئی کی گیس استعمال کررہا ہے جبکہ اس علاقے کے لوگ لکڑیاں جلا کر گزارا کررہے ہیں۔ دوسری طرف اسلام آباد سے وابستہ سرکاری ادارے دعوی کرتے ہیں کہ نواب بگتی سوئی کی پسماندگی کے ذمہ دار ہیں اور نہیں چاہتے کہ علاقہ میں ترقیاتی کام کیے جائیں۔ تاہم ذمہ دار جو بھی ہو حقیقت یہ ہے کہ اس وقت سوئی گیس کمپنی کے زیر استعمال علاقہ میں ملازمین کے مکانات، کیفے، ہسپتال اور کلب ہیں اور سوئی قصبہ میں مٹی سے بنے ہوئے گھر نظر آتے ہیں جہاں پینے کا صاف اورمحفوظ پانی بھی میسر نہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||