BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 March, 2005, 19:07 GMT 00:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فوجی کارروائی نہیں ہو رہی‘

شیر پاؤ نے ستر آدمیوں کی ہلاکت کی خبر کی تردید کر دی
شیر پاؤ نے ستر آدمیوں کی ہلاکت کی خبر کی تردید کر دی
پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے بلوچستان میں فوجی کارروائی کرنے کا حزب اختلاف کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں کوئی فوجی آپریشن ہورہا ہے اور نہ ایسا کوئی ارادہ ہے۔

جمعرات کی شام گئے قومی اسمبلی میں بلوچستان کی صورتحال پر بحث کو سمیٹتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بگتی قبائل نے فرنٹیئرکنسٹیبلری کے اہلکاروں پر حملہ کیا جس میں دس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے حزب مخالف کی جانب سے ستر افراد کی ہلاکتوں کے دعویٰ کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ چند لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ وزیر نے بتایا کہ سنگسیلا پوسٹ پر بگتی قبیلے کے مسلح افراد نے ایک کرنل کی سربراہی میں چھیالیس اہلکاروں کے قافلے پر حملہ کیا اور اہلکاروں کو یرغمال بنالیا تھا۔

حزب مخالف کے رکن میر ہزار خان نے کہا کہ سنگسیلا پوسٹ ڈیرہ بگتی سے چالیس کلومیٹر دور ہے اور وزیر کو پتہ ہی نہیں۔ جس پر وزیر داخلہ نے کہا انہوں نے سنگسیلا پوسٹ نہیں بلکہ چوک کی بات کی ہے۔

حزب اختلاف کے اراکین نے وزیر کا جواب دینے کے لیے موقع نہ ملنے اور مبینہ غلط بیانی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا۔

مخدوم امین فہیم نے نواب اکبر بگٹی کے حوالے سے جبکہ عبدالرؤف مینگل نے اپنے ذرائع کے حوالے سے ایوان کو بتایا کہ ستر کے قریب بےگناہ افراد جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، وہ مارے گئے ہیں۔

ایوان میں حزب اختلاف کے اراکین نے شیم شیم کے نعرے بھی لگائے۔

حکمران اتحاد میں شامل متحدہ قومی موومینٹ کے ڈاکٹر فاروق ستار نے فوجی کارروائی کی مذمت کی اور کہا کہ بلوچستان میں ایک طرف حکومت ترقیاتی منضوبوں کے ذریعے احساس محرومی ختم کرنے کی بات کی جارہی تو دوسری جانب اس کی نفی کر رہی ہے۔ انہوں علامتی واک آؤٹ کیا جس میں حزب مخالف نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔

بلوچستان کے متعلق بحث کے بیشتر شرکاء نے بلوچستان کی صورتحال کو مشرقی پاکستان کی صورتحال سے تعبیر کیا اور فوجی کارروائی کی سخت مخالفت کرتے ہوئے حکومت اور فوج پر کڑی تنقید کی۔

حزب اختلاف کی تمام جماعتوں اور حکومتی اتحاد میں شامل متحدہ قومی موومینٹ کے اراکین نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں فوجی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر’آپریشن‘ بند کیا جائے اور مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھایا جائے۔

حافظ حسین احمد اور دیگر کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں فوج کشی خود کشی ہوگی اور اس کے خطرناک نتائج کی ذمہ داری حکمرانوں پر ہوگی۔

عبدالرؤف مینگل نے کہا کہ ڈیرہ بگتی میں پیٹرول پمپ تباہ کیے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لاشیں اٹھانے اور زخمیوں کو ہسپتال لے جانے کی اجازت بھی نہیں دی جارہی۔

دریں اثناء بلوچستان کے متعلق چودھری شجاعت حسین کی سربراہی میں قائم پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس شروع ہوا تو حزب مخالف کے رہنما مخدوم امین فہیم نے اجلاس کو فوجی کارروائی سے آگاہ کیا اور کہا کہ جب تک صورتحال واضح ہوجائے اس وقت تک اجلاس ملتوی کیا جائے۔ ان کی رائے پر چودھری شجاعت حسین نے اجلاس ملتوی کردیا۔

بلوچبلوچ کہانی،11
بگتی بمقابلہ کلپر: قبائل کے اندرونی جھگڑے
بلوچبلوچ کہانی،12
سوئی کی چار سو ایکڑ زمین کا مالک کو ن ہے؟
سوئی گیسبلوچ کہانی،14
سوئی گیس، ایک دولت یا محرومی
بلو چستانبلوچ کہانی: 16
بلوچوں کی معاشی زندگی پر اثرات
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد