آٹھ ہلاکتوں کی تصدیق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈیرہ بگتی میں فائرنگ کے تبادلے میں فرنٹیئر کور کے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تعداد آٹھ ہوگئی ہے جبکہ تئیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں جبکہ دوسری جانب نواب اکبر بگتی کا کہنا ہے کہ کم سے کم ساٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ گزشتہ روز بگتی قبائل کے گھیرے میں آنے والے ایف سی کے اہلکار وہاں سے نکل گئے ہیں جن میں کچھ زخمی ہوئے ہیں جبکہ دو لاشیں ابھی بھی ادھر پڑی ہوئی ہیں۔ فرنٹیئر کور کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ان کی اطلاع کے مطابق دوسری جانب (یعنی بگتی قبائل کو) نقصان اتنا زیادہ نہیں ہوا ہے جتنا بیان کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ادھر لگ بھگ پندرہ افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ ڈیرہ بگتی سے مواصلاتی رابطہ بحال نہیں ہو رہا ہے جس کی وجہ سے وہاں سے معلومات اکٹھی کرنے میں دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ نواب اکبر بگٹی نے رات کہا تھا کہ فائرنگ کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا ہے۔ ادھر کوئٹہ میں جعمہ کو قوم پرست جماعتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین ڈیرہ بگتی میں فائرنگ کے واقعے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کر رہی ہیں۔ ہمارے نامہ نگار نے گزشتہ شب یہ اطلاع دی تھی کہ ڈیرہ بگتی میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ ایک مقامی شخص نے سیٹیلائیٹ فون پر بتایا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ میدان جنگ میں ہیں جہاں ہر طرف دھماکے اور فائرنگ کی آوازیں آرہی ہیں۔ فرنٹئیر کور کے آئی جی شجاعت ضمیر ڈار اور صوبائی وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی نے کہا ہے کہ ڈیرہ بگتی میں فائر بندی رات آٹھ بجے ہوگئی ہے۔ جبکہ نواب اکبر بگتی نے کہا ہے کہ پیٹرول پمپ اور فلور مل کے قریبی علاقوں میں رات گئے تک فائرنگ ہوتی رہی ہے۔ اس ساری کارروائی میں ایف سی کا دعوی ہے کہ بگتی قبائل نے پہلے فائر کیا ہے جس سے ایف سی کے اہلکار موقع پر زخمی ہو ئے جبکہ نواب اکبر بگتی نے کہا ہے کہ ایف سی کے اہلکاروں نے پہلے حملہ کیا ہے اور یہ کہ کمزور کبھی حملہ آور نہیں ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ انھوں نے کوئی ایف سی کی اہلکاروں کو گھیرے میں نہیں لیا ہے وہ خود ان کے اپنے گھیرے میں ہوں گے۔ انھوں نے کہاہے کہ ایف سی کے اہلکاروں نے شہری آبادی کو نشانہ بنایا ہے جہاں زیادہ تر ہندو آبادی کے مرد خواتین اور بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ جمعرات کی شام قوم پرست جماعتوں کے قائدین اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کے اراکین اسمبلی نے احتجاجی بھی مظاہرہ کیا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ڈیرہ بگتی اور سوئی کے ٹیلیفون ایکسچینج کو دو ہفتے پہلے آگ لگا دی گئی تھی جسے اب تک مرمت نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہاں آزاد ذرائع سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||