مبشر زیدی بی بی سی اردو ڈاٹ کام،اسلام آباد |  |
 |  حکومت نے از خود دورہ کی دعوت دی تھی پھر خود ہیں اسے موخر کر دیا |
حکومت کی طرف سے سیکیورٹی کلیئرنس نہ ملنے کے باعث اپوزیشن ارکانِ پالیمان اور ملکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کا بلوچستان کے علاقے سوئی اور ڈیرہ بگتی کا دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ یہ دورہ حکومت کی دعوت پر ہونا تھا جس میں اپوزیشن جماعتوں کے آٹھ ارکان قومی اسمبلی اور میڈیا کے ارکان کو سوئی اور ڈیرہ بگتی لے جانے اور وہاں حالات کا جائزہ لینے کے لیے کہا گیا تھا۔ یہ دعوت جمعے کو وفاقی وزیر اطلاعات نے ایوان کے اجلاس میں اس وقت دی جب پاکستان پیپلز پارٹی کے دو ارکان اسمبلی شیری رحمن اور اعجاز جاکھرانی نے الزام لگایا کہ ڈیرہ بگتی میں ستر سے زائد شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ اعجاز جاکھرانی کا کہنا تھا کہ اس جھڑپ میں نواب اکبر بگتی کا ایک گارڈ اور ان کے خاندان کی کئی خواتین زخمی ہوئیں ہیں۔ اس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا تھا کہ اپوزیشن خود وہاں جا کر دیکھے کہ کیا حالات ہیں تاکہ حقائق کا پتہ چل سکے۔اس پر شیری رحمن، نوید قمر، اعجاز جاکھرانی، تحریک انصاف کے عمران خان، متحدہ مجلس عمل کے حافظ حسین احمد، لیاقت بلوچ اوردو اور ارکان اسمبلی نے بلوچستان جانے کی حامی بھری تھی۔ تاہم ہفتے کی صبح جب ارکان اسمبلی اور میڈیا کے ارکان اسلام آباد ائیرپورٹ پہنچے تو وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید نے بتایا کہ یہ دورہ سیکیورٹی کلیئرنس نہ ملنے کی وجہ سے موخرء کر دیا گیا ہے اور اب ان ارکان اسمبلی اور میڈیا کے نمائندوں کو اتوار کے روز سوئی اور ڈیرہ بگتی لے جایا جائے گا۔ تاہم اپوزیشن ارکان اسمبلی نے الزام لگایا ہے کہ حکومت کی طرف سے سیکیوٹی کلیئرنس نہ ملنے کا عذر ایک بہانہ ہے۔ پی پی پی کی رکن شیری رحمن نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں ابھی تک اس بات سے مطلع نہیں کیا گیا ہے کہ یہ وفد کل بھی سوئی جا سکے گا یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواب اکبر بگتی نے اپوزیشن اور میڈیا کے ارکان کے دورے کا خیر مقدم کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اس وفد سے ضرور ملیں گے۔ |