ٹرین دھماکوں میں دو افراد ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں سبی کے قریب مسافر ریل گاڑی میں ایک اور دھماکہ ہوا ہے جس میں ایک شخص ہلاک اور چار افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔ یہ دھماکہ بھی چلتن ایکسپریس میں ہوا ہے۔ ایک زخمی خاتون نے بتایا ہے کہ وہ اپنی بچی کو گود میں لیے بیٹھی تھی کے اچانک بیت الخلاء میں دھماکہ ہوا ہے جس کے بعد انھیں کچھ پتہ نہیں چلا۔ یہ دھماکہ سبی کے قریب مشکاف کے مقام پر ہوا ہے۔ اس سے قبل بلوچستان کے شہر مچھ کے قریب ایک ریل گاڑی میں دھماکہ ہوا ہے جس میں کم سے کم ایک شخص ہلاک اور سات کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی تھی جس میں فوج کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ یہ دھماکہ چلتن ایکسپریس میں مچھ اور ہیرک ریلوے سٹیشن کے درمیان ہوا ہے۔ مچھ پولیس اور ریلوے پولیس کے اہلکاروں کے مطابق ایک سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوا ہے جبکہ ایک سیکیورٹی اہلکار سمیت چار افراد شدید زخمی ہیں۔ یہ دھماکہ چلتن ایکسپریس کی بوگی نمبر پانچ میں ہوا ہے۔ پولیس اہلکاروں نے بتایا ہے کہ یہ اندازہ ہے کہ ایک دیسی ساخت کا بم بوگی نمبر پانچ کے بیت الخلا میں رکھا گیا تھا۔ چلتن ایکسپریس پیسنجر ٹرین ہے جو کوئٹہ سے ایک بجے دوپہر لاہور کے لیے روانہ ہوئی ہے۔ گزشتہ روز ڈیرہ بگٹی میں ایف سی اور بگتی قبائل کے مابین فائرنگ سے علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے ۔ ڈیرہ بگتی اور سوئی میں ایف سی اور قبائل مورچہ بند ہیں۔ یاد رہے کہ سوئی میں لیڈی ڈاکٹر شازیہ خالد سے زیادتی کے بعد سوئی میں فسادادت پھوٹ پڑے تھے اور بعد میں ریلوے لائن، بجلی اور ٹیلیفون کی تنصیبات کے قریب دھماکے کیے گئے تھے۔ صوبے کہ کچھ علاقوں میں تاحال ٹیلیفون نظام مکمل طور پر مرمت نہیں کیا جا سکا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||