BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 March, 2005, 06:27 GMT 11:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان کی روشن تصویر

بلوچستان
بلوچستان کا بہت بڑا ساحلی علاقہ ہے جہاں اٹھاون سال بعد گوادر کو ترقی دی جارہی ہے۔
بلوچستان کی محرومی کا قصہ سنانے والے تو بہت ہیں لیکن کوئٹہ میں ایک بلوچ دانشور ایسے بھی ہیں جو بلوچستان کی معیشت اور معاشرت میں بہتری کی تصویر بھی پیش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبے کے مشرق میں قبائلی علاقوں کے سوا پورا بلوچستان معاشی اور معاشرتی ترقی کے عمل سے گزر رہا ہے۔

بہادر خان بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے رکن اور بلوچستان یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور ماہر معاشیات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مشرقی بلوچستان کی قبائلی پٹی کو چھوڑ کر صوبے کے بقیہ حصوں میں معاشی اور معاشرتی تبدیلی آئی ہے۔

بی بی سی سے انٹریو میں بہادر خان نے بلوچستان کے ماضی اور حال میں آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں بات چیت کی۔ ان کی گفتگو سے بلوچستان کا معاشی منظرنامہ کچھ یوں ابھرتا ہے۔

بلوچستان انگریزوں کے دور سے ہی پسماندہ ہے جب یہ صوبہ برطانوی بلوچستان اور ریاستی بلوچستان کے حصوں میں تقسیم تھا۔ انگریزوں نے اپنی نوآبادیاتی حکمت عملی کے تحت افغانستان اور وسط ایشیا کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے کوئٹہ سے تفتان اور دوسری طرف شمالی افغانستان سے ملحق چمن تک ریلوے لائن بچھائی اور کوئٹہ میں چھاؤنی بنائی جبکہ دوسری طرف ریاستی بلوچستان، قلات وغیرہ میں ریلوے لائن کا ایک کلومیٹر بھی نہیں بچھایا گیا اور سب سڑکیں کچی تھیں۔ ۔

 ٹیوب ویل بلوچستان کی زندگی ہے۔ بجلی اور ٹیوب ویل نے بلوچستان کی معاشرت پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ بلوچ پہلے محنت کے عادی نہیں تھے۔ اب وہ زراعت کر رہے ہیں اور باغ لگا رہے ہیں۔ ایک ایک باغ لاکھوں روپے میں بکتا ہے۔

انیس سو چھیالیس تک کوئٹہ میں صرف ایک سکول تھا اور ایک کالج۔ آج اس شہر میں تین یونیورسٹیاں ہیں، ایک بلوچستان یونیورسٹی، ایک آئی ٹی یونیورسٹی اور اور اب ایک میڈیکل یونیورسٹی بن رہی ہے۔

پورے ریاستی بلوچستان میں صرف دو سکول تھے جبکہ اب پورے ریاستی بلوچستان میں ہزاروں کی تعداد میں سکول ہیں اور تقریبا پچیس انٹر اور ڈگری کالجز ہیں۔ خضدار میں انجینئرنگ یونیورسٹی ہے، زرعی کالج موجود ہے اور بیلا میں زرعی یونیورسٹی بن رہی ہے۔

انیس سو ستر تک بلوچستان کا صوبائی بجٹ نہیں بنتا تھا بلکہ قلات ڈویژن کے نام سے اس کا بجٹ تیار کیا جاتا تھا۔ریاستی بلوچستان میں جو ترقی ہوئی وہ پاکستان بننے کے بعد ہوئی گو اس تیز رفتار سے نہیں ہوئی جیسا ہونی چاہیے تھی۔ پاکستان بننے کے بعد بلوچستان کو اتنے کم فنڈز دیے گئے کہ ان کا بیشتر حصہ انتظامیہ اور پولیس پر خرچ ہوجاتا تھا اور ترقیاتی کاموں کے لیے بہت کم پیسے بچتے تھے۔

بلوچستان کا بہت بڑا ساحلی علاقہ ہے جہاں کسی بندرگاہ کو ترقی نہیں دی گئی اور اب اٹھاون سال بعد یہاں گوادر کو ترقی دی جارہی ہے۔ بلوچستان میں جب ترقیاتی کام شروع ہوئے اور تعلیمی ادارے بننے لگے تو یہاں تو تعلیم یافتہ اور اہل سٹاف انہیں چلانے کے لیے موجود نہیں تھا اس لیے پاکستان کے دوسرے علاقوں سے ان اداروں کو چلانے کے لیے لوگ یہاں آئے۔ یہ بلوچستان کی مجبوری تھی۔

یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ مشرق وسطی کے ملکوں نے پاکستان، بھارت اور فلپائن سے افرادی قوت لی۔ جہاں ترقی ہوگی وہاں متعلقہ مزدوروں کو آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ مثلا بلوچستان میں کوئلے کی کانوں (ڈگاری، سورویز، مچھ وغیرہ) میں سب مزدور سوات سے آتے ہیں جو یہ کام جانتے ہیں اور بہت جفاکش ہیں۔ بلوچستان میں کبھی کوئی ان پر اعتراض نہیں کرتا۔

News image
قبائلی معاشرہ زرعی معاشرہ میں بدل رہا ہے

مستونگ کے مزارع نال، وڈھ، باغبانے اور بیلا تک جاکر کاشت کاری کرتے ہیں۔ وہ زمین آباد کرتے ہیں اور شراکت پر کاشت کرتے ہیں کیونکہ انہیں زراعت آتی ہے، خربوزے پکانا اور انگور کے باغ لگانے آتے ہیں جبکہ مقامی آبادی کو بارانی طریقے سے صرف گندم اگانا آتی تھی۔ اسی طرح گوادر میں بھی باہر سے وہ لوگ آئیں گے جن کی اہلیت کے لوگ مقامی طور پر موجود نہیں۔

بلوچستان کے لوگوں کے طرز معاش میں ایک نمایاں تبدیلی آر سی ڈی شاہراہ بننے سے آئی جو وڈھ سے بھی گزرتی ہے جو کہ مینگل اور زہری قبائل کا علاقہ ہے۔ اس شاہراہ کے بننے سے یہاں کے قبائلی لوگ کراچی کی منڈی سے جُڑ گئے ۔ اب یہاں کے لوگ ریل گاڑی سے سفر نہیں کرتے بلکہ کوچ سے دس بارہ گھنٹے میں کراچی پہنچ جاتے ہیں۔

آر سی ڈی سڑک کے ساتھ یہاں بجلی بھی آگئی جس سے ڈیزل کے ٹیوب ویل بجلی سے چلنے لگے اور زراعت کو فروغ ملا اور یہاں پیاز، آلو، مرچ کی کاشت ہونے لگی۔ وڈھ اور نوشکی کے علاقوں میں کپاس بھی پیدا ہونے لگی ہے جو پہلے نہیں ہوتی تھی۔ یہ بہت اچھے معیار کی صاف ستھری کپاس ہے جس کی زیادہ قیمت ملتی ہے۔

اس علاقے کے لوگ ستر کی دہائی میں پانچ سال پہاڑوں پر حکومت کے خلاف لڑتے رہے اب کاشت کاری کرتے ہیں اور منڈی سے منسلک ہوگئے ہیں۔ اب قبائلیوں سے کہا جائے کہ لڑو تو یہ کہیں گے کہ آلو کون کاشت کرے گا اور پیاز کون بیچے گا؟ یہاں قبائلی معاشرہ زرعی معاشرہ میں بدل رہا ہے۔

اب وڈھ کو سندھ کے شہر شہداد کوٹ سے ملانے کے لیے سڑک بنائی جارہی ہے جس سے انکے درمیان فاصلہ کم ہوکر صرف نوے میل رہ جائے گا۔ اسی طرح گوادر بندرگاہ کو اندرون بلوچستان سے ملانے کے لیے ایک ریلوے لائن بچھانے کا منصوبہ ہے جو خضدار، پنجگور، کوئٹہ اور چمن تک جائےگی۔

آر سی ڈی شاہراہ کے بننے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بجائے حکومت یہاں ترقیاتی کام کرے ان لوگوں نے زمیندار ایکشن کمیٹی بنالی ہے اور خود حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بجلی دو، سڑک بناؤ اور اسکول اور ہسپتال بناؤ۔

تاہم اس مری علاقہ میں تبدیلی نہیں آئی جو بلوچستان کے مشرق میں قبائلی علاقہ ہے۔ کوئٹہ سے کوہلو پہنچنے میں اب بھی دو دن لگتے ہیں۔ وسطی بلوچستان کا انفراسٹرکچر ترقی کرگیا ہے لیکن مشرقی بلوچستان کے قبائلی علاقہ میں کم ترقی ہوئی ہے۔ اگر کوہلو میں بھی بجلی مہیا کردی جائے تو وہاں بھی زراعت ہوسکتی ہے۔

بلوچستان میں آٹھ سال کی خشک سالی سے کاریزیں خشک ہوگئی ہیں۔ سب سے زیادہ کاریزیں مستونگ اور لورالائی میں تھیں۔ اب تو ٹیوب ویل سے ایک انقلاب آگیا ہے جن سے نکالے جانا والا پانی ایک دریا کے برابر ہے۔

یہ لوگ ستر کی دہائی میں پانچ سال پہاڑوں پر حکومت کے خلاف لڑتے رہے اب کاشت کاری کرتے ہیں اور منڈی سے منسلک ہوگئے ہیں۔ اب قبائلیوں سے کہا جائے کہ لڑو تو یہ کہیں گے کہ آلو کون کاشت کرے گا اور پیاز کون بیچے گا؟

ٹیوب ویل بلوچستان کی زندگی ہے۔ بجلی اور ٹیوب ویل نے بلوچستان کی معاشرت پر اثر ڈالا ہے۔ بلوچ پہلے محنت کے عادی نہیں تھے۔ اب وہ زراعت کر رہے ہیں اور باغ لگا رہے ہیں۔ ایک ایک باغ لاکھوں روپے میں بکتا ہے۔

قبائلی سردار بوڑھے ہورہےہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے بچے پڑھیں اور ان کے علاقوں میں ترقی ہو۔ نواب رئیسانی اور جوگیزئی بڑے قبائلی سردار ہیں انہوں نے کبھی اپنے علاقہ میں ترقی کی مخالفت نہیں کی۔ ترقی سے بھی فوری طور پر سرداروں کے سیاسی مرتبہ میں کمی نہیں آئے گی۔

وزیراعظم ظفراللہ جمالی نصیرآباد کے ایک بڑے زمیندار ہیں۔ انہوں نے نصیرآباد کی ترقی پر خصوصی توجہ دی اور کوئٹہ میں بھی ترقیاتی کام کروائے۔ یہ خیال قدرے مبالغہ آرائی پر مبنی ہے کہ قبائلی سردار ترقی کے کاموں میں رکاوٹ ہیں۔

بلوچستان کی ترقی اور اسے دوسرے صوبوں کے برابر لانے کے لیے ضروری ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاق سے قابل تقسیم محصولات میں سے صوبہ کو دیے جانے والے حصہ میں اضافہ کیا جائے۔

اس وقت بلوچستان کو ستر لاکھ آبادی کے حساب سے پانچ فیصد رقم ملتی ہے جو انتظامیہ پر خرچ ہوجاتی ہے۔ اسی طرح یہ مطالبہ کہ تینتالیس فیصد رقبہ کی بنیاد پر بلوچستان کو فنڈز دیے جائیں تو یہ بھی ایک انتہا پر مبنی ہے۔ زیادہ مناسب یہ ہوگا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت بلوچستان کو کچھ برسوں کے لیے پندرہ سے بیس فیصد رقم دی جائے۔

اگر سوئی گیس کمپنی سے کسی کو بارہ کروڑ ملتے بھی ہیں اور بلوچستان کو پانچ ارب روپے رائلٹی ملتی ہے تو بھی وہ کم ہے اس گیس کے بدلے صوبے کو زیادہ ترقیاتی فنڈز ملنے چاہئیں۔

ساحلی علاقوں جیسے گوادر کی ترقی اچھی بات ہے لیکن اندرون بلوچستان کو بھی ترقی دی جائے اوریہاں سڑکیں، بجلی اور چھوٹی زرعی صنعتوں کی ترقی پر توجہ دی جائے۔

بلو چستانبلوچ کہانی: 16
بلوچوں کی معاشی زندگی پر اثرات
 پی پی ایلبلوچ کہانی: 15
بگتیوں پر پی پی ایل کے اخراجات
سوئی گیسبلوچ کہانی،14
سوئی گیس، ایک دولت یا محرومی
 بگتیبلوچ کہانی۔13
متعدد بلوچ سردار آپس میں رشتہ دار ہیں
بلوچبلوچ کہانی،12
سوئی کی چار سو ایکڑ زمین کا مالک کو ن ہے؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد