BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 20 March, 2005, 19:36 GMT 00:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اکبر بگتی کے خلاف قتل کا مقدمہ درج
اکبر بگتی
نواب اکبر بگتی کے داماد شاہد بگتی نے بتایا ہے کہ حکومت نے نواب اکبر بگتی، ان کے بیٹے اور پوتے کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے ۔

ڈیرہ بگتی کے ڈی سی آو صمد لاسی نے اکبر بگتی کے خلاف مقدمہ درج ہونے کی تصدیق کی ہے۔

اکبر بگتی کے داماد شاہد بگتی نے بی بی سی کو بتایا کہ اکبر بگتی یا ان کے خاندان کا کوئی شخص خود کو قانون کے حوالے نہیں کرئے گا کیونکہ ان کو انتظامیہ اور عدلیہ پر اعتبار نہیں ہے۔

بلوچستان کے گورنر اویس احمد غنی نے بی بی سی پشتو کو بتایا کہ کہ ڈیرہ بگتی میں حالات کشیدہ ہیں اور تین سو کے قریب ایف سی کے اہلکار اکبر بگتی کی پرائیوٹ آرمی کے گھیرے میں آ چکے ہیں۔

گورنر نے بتایا کہ ایف سی جوانوں کو، جو ایک قلعے میں محصور ہو گئے ہیں ، خوراک اور دوسری چیزوں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پہنچائی جا رہی ہیں کیونکہ ان کے ساتھ زمینی رابطہ قائم نہیں رہا ہے۔

ڈیرہ بگتی کے ڈی سی او صمد لاسی نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈیرہ بگتی میں سے تمام سویلین آبادی نقل مکانی کر چکی ہے اور اکبر بگتی کی پرائیوٹ آرمی نے، جس کی ان کے خیال میں تعداد تین سے پانچ ہزار ہے ، پوزیشنیں سنھبالی ہوئی ہیں۔

ڈی سی او نے بتایا کہ ڈیرہ بگتی میں بجلی بند ہے، ٹیلی فون ایکسچنج کو ایک ہفتہ پہلے جلا دیا گیا تھا۔ ہر طرف ہو کا عالم ہے اور شہر کرفیو کا سماں پیش کر رہا ہے۔

ڈی سی او نے بتایا اکبر بگتی کے خلاف مقدمہ ان پر ( ڈی سی او) اور بمبور رائفل کے کمانڈنٹ پر حملہ کرنے پر درج کیا گیا۔

ڈی سی او کے مطابق اکبر بگتی پر الزام ہے کہ ایف سی کے اہلکاروں پر حملے ان کی ایما پر ہو رہے ہیں جن میں آٹھ لوگ مارے جا چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایف سی کی جوابی کارروائی میں اکبر بگتی کی پرائیوٹ آرمی کے چودہ لوگ مارے گئے تھے جن میں کئی پولیس کو مطلوب تھے۔ مارے جانے والوں میں ایک جمال شاہ عرف طوطا بھی شامل ہے جن نے مبینہ طور پرایف سی کے پانچ جوانوں کو ہلاک کیا تھا۔

اکبر بگتی کی گرفتاری کے بارے میں ڈی سی آو نے کہا کہ اگر حکومت چاہے تو گرفتاری ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اکبر بگتی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہو۔

نواب اکبر بگتی کے داماد شاہد بگتی نے کہا ہے کہ اکبر بگتی کے خلاف مقدمہ درج ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے اور سیاسی لوگوں کے خلاف مقدمے درج ہوتے رہتے ہیں۔

شاہد بگتی نے کہا کہ ایف سی نے ساٹھ بگتیوں کو ہلاک کیا لیکن جب وہ ان کے مقدمہ لے کر پولیس کے پاس جاتے ہیں تو کوئی مقدمہ درج نہیں کرتا۔

حکمران جماعت مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت کے ساتھ اکبر بگتی کے رابطوں کے بارے میں شاہد بگتی نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ ایک طرف حکومت مسلئے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی بات کرتی ہے اور دوسری طرف گولہ باری کر رہی ہے۔

شاہد بگتی نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کی گولہ باری سے اکبر خان بگتی کے قلعے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آتی کہ حکومت کے عزائم کیا ہیں اور کیا وہ بات چیت کے ذریعے مسلئے کا حل چاہتی ہے یا بندوق کے زور پر بلوچوں کی زیر کرنا چاہتی ہے۔

شاہد بگتی کے مطابق مذاکرات کا سلسلہ ایک شوشا ہے درحقیت حکومت بلوچوں کی اپنے حقوق کے لیے اٹھنے والی آواز کو بندوق کے زور پر دبانا چاہتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد