’مشرقی پاکستان مت بناؤ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے اجلاس میں بلوچستان میں حکومتی پالیسوں پر تنقید کی ہے جس کے بعد ایک احتجاجی جلوس نکالا گیا اور شدید نعرے بازی کی گئی اس احتجاج میں بلوچستان سے آیا ہوا ایک چالیس رکنی وفد بھی شامل تھا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوۓ بلوچستان کے سابق جسٹں طارق محمودنے کہا کہ فوج نےدفاع پاکستان کے علاوہ ہر کام کیا ہے انہوں نےسوال اٹھایا کہ فوج کے سیاسی کردارسے پاکستان کو کیا حاصل ہورہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں فوجی چھاؤنی قائم کی گئی تو اس کا صرف اتنا فائدہ ہوا کہ کوئٹہ میں قدرتی گیس پہنچ گئی۔ انہوں نے کہاکہ بلوچ کی غیرت کو للکارا جارہا ہے اور دوسرے صوبوں کے افسر بلوچستان میں حکمرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ پاکستان اور عوام ختم ہوجائیں اور صرف فوج باقی رہ جاۓ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں محرومیوں کے نتیجے میں حالات اب پہلے سے کہیں زیادہ خراب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ بلوچستان کے حقوق کاخیال رکھاجاۓ اور معاملہ کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جاۓ۔ انسانی حقوق کمشن کے چئیرمین طاہر محمد خان نے کہا کہ بلوچستان کی محرومیوں کا حل نہ کیا گیا تو بیس سال بعد بھی گوادر میں سیمنٹ کے ڈھانچے کے سوا کچھ نہیں ہوگا نہ کشتیاں آئیں گی اور نہ تیل لوڈ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گیس تو بلوچستان دے رہا ہے لیکن حالات کسی اور کے بہتر ہو رہے ہیں انہوں نے اعداد وشمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہزار معکب فٹ گیس کی رائیلٹی وفاق کو صرف بائیس روپے جاتی ہے اور اس میں سے صرف بارہ فی صد صوبائی حکومت کو ملتا ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں سندھ سے نکلنے والی گیس کی ایک سو چالیس روپے وفاقی حکومت کو جاتے ہیں اور اس کا بارہ فی صد سندھ حکومت کو پنجاب کے ایک سو ساٹھ روپے کی وفاقی رائلٹی میں سے بارہ فی صد پنجاب حکومت کو ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں میں ایسا فرق نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ چھاؤنی کے منصوبے بلوچ آبادی کی محبت میں نہیں تیار کیے گئے بلکہ قوم پرست بلوچ سمجتھے ہیں کہ انہیں دبانے کے لیے ایسے منصوبے بناۓ جارہے ہیں۔ اجلاس سے افراسیاب خٹک، راشد رحمان، اور حنا جیلانی نے بھی خطاب کیا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے بارے میں حکومتی رویے ابھی تک نو آبادیاتی نوعیت کے ہیں اسی لیے سرداروں کے طرز عمل کو پراپیگنڈہ کے ذریعے الجھا کر پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ پہاڑوں پر حملے کر رہے ہیں وہ قبائلی عوام ہیں سردار نہیں ہیں۔ اجلاس کے شرکاء نے احتجاجی مظاہرے کے دوران ایسے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر ’بلوچستان میں فوجی طاقت کا استعمال بند کرو اور ’بلوچستان کو مشرقی پاکستان نہ بناؤ‘ کے نعرے درج تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||