ڈیرہ بگتی: ایف سی کیمپ محصور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے گورنر اویس غنی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایف سی کے تقریباً تین سو اہلکاروں کو ایک قلعے میں محصور کر دیا گیا ہے۔ ان محصورین میں ڈیرہ بگٹی کے ڈی سی او صمد لاسی بھی شامل ہیں۔ جس قلعے میں صمد لاسی محصور ہیں وہاں سے انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے کچھ تفصیل بتائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیرہ بگتی ٹاؤن میں اس وقت کشیدگی بہت زیادہ ہے اور شہر تقریباً خالی ہو چکا ہے۔ صمد لاسی کا کہنا تھا کہ اس وقت پرائیویٹ آرمی اور فوج ایک دوسرے کے سامنے مورچہ بند ہیں۔ علاقے میں بجلی نہیں ہے اور ٹیلی فون ایکسچینج بھی گزشتہ ہفتے جلا دیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں کوئی نہیں ہے اور ہو کا عالم ہے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ اکبر بگٹی کے خلاف مقدمہ درج ہو چکا ہے اور یہ مقدمہ ان کے اور بھمبور رائفل کے کرنل فرقان پر 17 تاریخ کو ہونے والے حملے کے سلسلے میں درج کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں نواب بگتی کے اور لوگ بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پر الزام ہے کہ ان کی ایما پر ناظم صمد لاسی اور کرنل فرقان اور ایف سی کے جوانوں پر جو سرکاری کام سے جا رہے تھے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ایف سی کے آٹھ جوان بھی ہلاک ہوئے۔ صمد لاسی کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ان کی نجی فوج کے بھی چودہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مقدمے میں جو دوسرے افراد ہیں ان میں ایک شاہ جمال عرف طوطا ہے جس نے سولہ جنوری کو ایف سی کے پانچ جوانوں کو بھی ہلاک کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کے اس وقت ڈیرہ بگتی میں عام لوگ نہیں بلکہ نواب بگتی کی سول فوج، جس کی تعداد ان کے خیال کے مطابق تین سے پانچ ہزار ہے مورچہ بند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف سی کمپاؤنڈ کو، جس میں ان کے علاوہ تین سے ساڑھے تین سو کی نفری موجود ہے، بگتی کے مسلح افراد نے نشانہ بنا رکھا ہے۔ انہوں نےبتایا کہ اس صورت میں ایف سی کی نفری تو ان کی مدد کے لیے آ سکتی ہے لیکن باقاعدہ فوج کی نہ تو ضرورت ہے اور نہ ہی اس کا امکان ہے کہ وہ آئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||