BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 12 February, 2005, 10:14 GMT 15:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان میں شٹر ڈاؤن، 22 گرفتار

کوئٹہ
شہر سے بائیس افراد کو گرفتار کیا گیا ہے
کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں آج قوم پرست جماعتوں کی اپیل پر احتجاجاّ دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے جبکہ پولیس نے کوئٹہ میں بائیس افراد کو زبردستی دکانیں بند کرانے کے جرم میں گرفتار کر لیا ہے۔

قوم پرست جماعتوں نےمتوقع فوجی کارروائی، چھاؤنیوں کے قیام، میگا پراجیکٹس، صوبے میں خشک سالی سے زمینداروں اور مالداروں کی تباہی اور حکومت کی خاموشی کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اپیل کی تھی جس پر آج صوبے کے بیشتر علاقوں میں کاروباری مراکز اور دکانیں بند رہیں۔

قوم پرست جماعتوں کے بلوچ یکجہتی اتحاد میں شامل بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ، نیشنل پارٹی، جمہوری وطن پارٹی کے علاوہ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی نے مشترکہ طور پر اس ہڑتال کی اپیل کی تھی۔

صوبے کہ مختلف علاقوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ڈیرہ بگٹی، سوئی قلات، خاران، خضدار، ڈیرہ مراد جمالی، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، لورالائی اور ژوب میں مکمل ہڑتال رہی ہے۔

کوئٹہ میں ڈی آئی جی پولیس پرویز رفیع بھٹی نے بتایا ہے کہ شہر سے بائیس افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ پانچ گاڑیاں تحویل میں لے لی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ شہر میں پکڑ دھکڑ کا یہ سلسلہ آج صبح اس وقت شروع کر دیا گیا جب قوم پرست جماعتوں کے کارکنوں نے زبردستی دکانیں بند کرانا چاہیں۔ پولیس اس وقت چوکس ہے اور اگر زبردستی دکانیں بند کرانے کا سلسلہ جاری رہا تو مزید گرفتاریاں ہو سکتی ہیں۔

گرفتار افراد کا تعلق مختلف جماعتوں سے بتایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ سوئی میں متوقع فوجی کارروائی اور وہاں فوجی چھاؤنیوں کے قیام پر بلوچ قوم پرست جماعتیں احتجاج کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ گوادر سمیت دیگر میگا پراجیکٹس پر بھی ان جماعتوں کو اعتراض ہے جبکہ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی ان جماعتوں کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے صوبے میں خشک سالی سے ہونے والی تباہ کاریوں پر احتجاج کر رہی ہے۔

پشتون قوم پرست جماعت کے قائدین کے مطابق خشک سالی سے تباہیوں اور اب بارشوں کے پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے صوبائی اور وفاقی حکومت نے کوئی اقدامات نہیں کیے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد