احتجاج کے انوکھے طریقے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ہر حکومت غریب عوام کے مسائل حل کرنے کے دعوے تو کرتی رہی ہے لیکن بظاہر ایسا کچھ ہوتا نظرنہیں آ رہا۔ اس صورتحال کا نتیجہ یہ ہے کہ چند لوگ اپنے برسوں بلکہ صدیوں پرانے مسائل کے حل کے لئے گلی گلی احتجاج کرتے گھوم رہے ہیں۔ مختلف مسائل کا شکار اکثر لوگ تو عموماً بھوک ہڑتال، مظاہرہ اور جلسے جلوس منعقد کرتے ہیں لیکن جب ان کے مسائل اس طرح بھی حل نہ ہوں تو کچھ سائل اس بات پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ احتجاج کا کوئی ایسا نیا طریقہ اختیار کریں کہ جس سے اعلیٰ حکام اور ذرائع ابلاغ دونوں کی توجہ حاصل کر سکیں۔ ایسا ہی ایک انوکھا احتجاج قبائلی علاقے درہ آدم خیل کا چالیس سالہ جمال الدین بھی آج کل پشاور کی سڑکوں پر کر رہا ہے۔ ایک ہاتھ میں پچاس فٹ اونچے بانس پر بڑا سیاہ پرچم لہراتے اور دوسرے ہاتھ میں سرکاری اہلکاروں کو دی جانے والی درخواستوں کی نقول کے بنڈل اٹھائے وہ داد رسی کی امید میں گھوم رہا ہے۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ یہ انوکھا احتجاج وہ کس کے خلاف کر رہا ہے تو جمال الدین نے بتایا کہ وہ ٹیلیفون کمپنی پی ٹی سی ایل اور مقامی اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ کے خلاف یہ احتجاج کر رہا ہے۔ وہ ایسی کیفیت میں تھا کہ کافی بولنے کے باوجود بھی اپنی مشکل بیان نہ کر سکا۔ بانس اٹھانے کی وجہ سے اس کے کندھوں پر واضح نشانات تھے۔ نوکری اور سرکاری ظلم کے خلاف تو احتجاج معمول ہے لیکن کچھ لوگ اپنی اولاد کی تلاش میں کب سے مختلف علاقوں کی خاک چھان رہے ہیں۔ ایسا ہی ایک جوڑا لاہور کے اسّی سالہ شہزاد محمد سلیمان اور ان کی بیوی کا ہے۔ ان دونوں کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ بائیس برسوں سے اپنے اغوا شدہ بیٹے کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ ایک کمبل اور ایک پلے کارڈ اٹھائے ان دونوں کا کہنا ہے کہ ان کے اس ملک گیر احتجاج کی کہیں بھی شنوائی نہیں ہو رہی۔
شہزاد سےجب دریافت کیا گیا کہ وہ کب سے اپنے بیٹے کو تلاش کر رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے کو بائیس برس پہلے مبینہ طور پر ایم کیو ایم کے افراد نے اغوا کیا تھا جس کا آج تک کوئی اتا پتا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تمام سربراہان مملکت سے مل چکے ہیں لیکن مسئلہ حل نہیں ہوا۔چند لوگ ترس کھا کر ان کو پیسے دے دیتے ہیں جس سے ان کی زندگی کی گاڑی چل رہی ہے۔ یہ اپنی نوعیت کے احتجاج کی دو ہی مثالیں نہیں بلکہ ایسے کئی لوگ سائیکلوں پر یا پیدل برسوں سے گھوم رہے ہیں۔ یہ عمر عموماً ایسے افراد کی بچوں کی خوشیاں دیکھنے کی ہوتی ہیں لیکن یہ احتجاج پر مجبور ہیں۔ ان پر راہ چلتے لوگ عجیب وغریب فقرے بھی کستے رہتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے یہ پاگل ہیں اور کوئی انہیں بھکاری سمجھتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہے بھی تو کس نے انہیں اس حال میں پہنچایا ہے اور ان کی مدد کس کی ذمہ داری ہے؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||