مریدکے: بچے کی موت پراحتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کے نواحی علاقہ مریدکے میں ایک پانچ سالہ بچے کی ہلاکت کے بعد احتجاج کرنے والے مکینوں اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا جس کے دوران پولیس نے فائرنگ کرکے ایک شہری کو ہلاک کر دیا۔ مظاہرین نے پتھراؤ کیا اور کئی گھنٹے جی ٹی روڈ پر ٹریفک بلاک کیے رکھی۔ مریدکے پولیس کے ایک افسر نواز نے بتایا کہ جمعہ کی دوپہر جی ٹی روڈ پر واقع موضع داؤکے کے رہائشی عارف کے پانچ سالہ بچے رمضان کی خون آلود نعش ملنے پر ہنگامہ آرائی شروع ہوئی تھی۔اس بچے کو نامعلوم افراد نے بظاہر چھری کے وار کرکے قتل کیا تھا۔ مقامی افراد نے نعش مرکزی شاہراہ جی ٹی روڈ پر رکھ کر احتجاج شروع کیا۔ جب پولیس اہلکاروں نے انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی تو مظاہرین مشتعل ہوگئے۔ انہوں نے مبینہ طور پر پولیس پر پتھراؤ کیا اور چند پولیس اہلکاروں کو یرغمال بھی بنا لیا۔ پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور اہلکاروں کو چھڑا لیا۔ پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس سے ایک شہری ریاض ہلاک ہوگیا۔ ایک پولیس افسر کے مطابق پتھراؤ سے چھ پولیس اہلکار زخمی ہوۓ تاہم پولیس کو زخمی شہریوں کی تعداد کا اندازہ نہیں تھا۔ دوپہر دو بجے سے رات دس بجے تک جی ٹی روڈ بلاک رہی اور بعد ازاں اعلی پولیس افسروں سے مذاکرات کے بعد مظاہرین منتشر ہوگئے۔ اس علاقے سے چند روز قبل بھی ایک بچے زین العابدین کی نعش انہی حالات میں ملی تھی اور مقامی لوگوں نے ایک مرد اور عورت کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا لیکن پولیس نے انہیں چھوڑ دیا تھا۔ پاکستان میں اکثر اس طرح کی خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ بچوں کو قتل کر کے ان کے جسمانی اعضا کو جادو کرنے کےلیے استعمال کیا جاتا ہے۔ دونوں لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دی گئی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||