BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 December, 2004, 23:34 GMT 04:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اخبار نویسوں کا احتجاج

پولیس کے ساتھ ہاتھا پائی بھی ہوئی
پولیس کے ساتھ ہاتھا پائی بھی ہوئی
اسلام آباد کے صحافیوں اور اخباری صنعت سے وابسطہ غیر صحافی کارکنان نے پیر اور منگل کی درمیانی شب احتجاجی مظاہرہ کیا اور جلوس نکالا۔ اس سے سڑک بلاک ہوگئی اور اس موقع پر صحافیوں اور پولیس میں ہاتھا پائی بھی ہوئی۔

رات کو جلوس نکالنے کا مقصد وزیر اعظم شوکت عزیز کو ایک یاداشت پیش کرنا تھا جو اس وقت ایک مقامی ہوٹل میں اخباری مالکان کی جانب سے منعقد کردہ سالانہ ایوارڈ تقریب میں شریک تھے۔

شہر کے مصروف چوک آبپارہ پر بیسیوں صحافی اور اخباری صنعت سے وابسطہ دیگر شعبوں کے ملازمین جمع ہوئے اور اخباری مالکان کے خلاف اجرتوں کے نئے سرے سے تعین کے متعلق ’ویج ایوارڈ، پر عمل نہ کرنے کے خلاف نعرے لگائے۔

مظاہرین کے احتجاجی جلوس کو سیرینا ہوٹل کی طرف جانے سے پولیس نے روکا تو فریقین میں گرما گرمی اور ہاتھا پائی ہوگئی۔ کچھ صحافیوں کو دھکم پیل میں ڈنڈے بھی پڑے۔ صحافی رکاوٹیں توڑ کر ایمبیسی روڈ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے لیکن وہاں دوبارہ انہیں پولیس نے روک لیا۔

اس موقع پر وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات انیسہ زیب طاہر خیلی وہاں پہنچیں اور صحافیوں کو یقین دلایا کہ وہ مسئلہ حل کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گی۔ انہوں نے صحافیوں سے یاداشت نامہ وصول کیا اور وزیراعظم کو پیش کرنے کا وعدہ بھی کیا۔

قانون کے مطابق پاکستان میں ہر پانچ برس کے لیے حکومت اعلیٰ عدالت کے جج کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیتی ہے جو تمام متعلقہ فریقین کا موقف سننے کے بعد مہنگائی اور دیگر عوامل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اجرتوں کا تعین کرتا ہے۔

گزشتہ دو برس سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے لیکن کمیشن کی سفارشات کے مطابق اجرتوں کے نئے ایوارڈ پر اخباری مالکان عمل نہیں کر رہے۔ مالکان کا کہنا ہے کہ غیر صحافیوں کو ایوارڈ سے علیحدہ کیا جائے تو وہ عمل کرنے کو تیار ہیں۔

اخباری ملازمین کی تنظیمین دو برسوں سے احتجاجی مظاہرے کر رہی ہیں جبکہ فریقین عدالتوں میں بھی ایک دوسرے کے خلاف معاملہ لے جاچکے ہیں لیکن تاحال کوئی حل نہیں نکل سکا۔

سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے شوکت عزیز کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی تھی جسے کہا گیا تھا کہ وہ مالکان اور ملازمین میں صلح کرائے۔

اس کمیٹی کے قیام کے بعد صحافیوں نے احتجاجی تحریک معطل کردی تھی۔ شوکت عزیز بعد میں وزیراعظم بن گئے لیکن معاملہ حل نہیں ہوا۔

احتجاجی جلوس سے خطاب کرتے ہوئے ملازمین اور صحافیوں کی تنظیموں کے رہنماؤں، سی آر شمسی اور دیگر نے اعلان کیا کہ وہ اپنی تحریک کا اس جلوس سے دوبارہ آغاز کرچکے ہیں اور جلد اس کا دائرہ پورے ملک تک وسیع کیا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد