ایڈیٹر اور رپورٹر کے وارنٹ گرفتاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج لاہور ہائی کورٹ نے انگریزی اخبار دی نیوز کے مدیر اور ایک رپورٹر کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں جب کہ جنگ گروپ کے ٹیلی وژن چینل کو لاہور ہائی کورٹ کی پرانی عمارت کو گرانے سے متعلق کوئی خبر نشر کرنے سے روک دیا۔ آج لاہور ہائی کورٹ کے جج عبدالرشید نے گزشتہ سال چوبیس اکتوبر کو دی نیوز میں شائع ہونے والی عدالت عالیہ سے متعلق ایک رپورٹ پر جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمن ، دی نیوز کے ایڈیٹر سلیم بخاری اور اخبار کے رپورٹر رضوان رضی کو عدالت عالیہ میں طلب کیا تھا۔ دی نیوز میں گزشتہ سال چوبیس اکتوبر کو ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی سے متعلق لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ایک مقدمہ کی رپورٹ شائع ہوئی تھی جس کے بارے میں عدالت عالیہ نے نوٹس لیتے ہوئے کہا تھا کہ رپورٹنگ غلط کی گئی ہے اور اخبار کے متعلقہ لوگوں کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کردیے گئے تھے۔ اس مقدمہ کا پس نظر یہ ہے کہ ایک شخص نے اپنی زمین حاصل کرنے کے خلاف لاہور کی ڈیفنس سوسائٹی کے خلاف عدالت عالیہ میں ایک رٹ درخواست کی تھی جس پر عدالت نے حکم امتناعی جاری کر دیا۔ بعد میں اس شخص نے عدالت عالیہ سے کہا کہ جج کے حکم کے باوجود سوسائٹی اس کی زمین لے رہی ہے اور یہ توہین عدالت ہے جس پر جج نے سوسائٹی کے متعلقہ لوگوں کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کردیے تھے اور مدعا علیہان میں اس وقت کے کورکمانڈر لاہور ضرار عظیم کا نام بھی تھا جو اس سوسائٹی کے کرتا دھرتا تھے۔ دی نیوز نے یہ خبر شائع کردی کہ ڈیفنس سوسائٹی کے مقدمہ میں کورکمانڈر لاہور کو عدالت عالیہ نے توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا تاہم عدالت نے کہا کہ اس نے کور کمانڈر کو نہیں بلکہ ان کے قانونی مشیر کو نوٹس جاری کیا تھا اور اخبار نے غلط رپورٹنگ کی ہے۔ اس پر توہین عدات کے الزام میں اخبار کے مالک، مدیر اور رپورٹر کو نوٹس جاری ہوگئے۔ آج صبح عدالت کے شروع ہوتے ہی چند مقدموں کے بعد جج عبدالرشید نے دی نیوز کے متعلقہ لوگوں کی عدم حاضری کی بنا پر مدیر اور رپورٹر کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے جبکہ جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمن کو دوبارہ نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا۔ آج لاہور ہائی کورٹ کے ایک دو رکنی بینچ نے جنگ گروپ کے خلاف توہین عدالت کے ایک اور مقدمہ کی سماعت بھی کی جس میں جنگ گروپ کے ٹیلی وژن چینل پر عدالت عالیہ کی توہین کرنے کا الزام ہے۔ جیو کی ایک پروڈیوسر معصومہ تقی نے لاہور ہائی کورٹ کی پرانی عمارت گرائے جانے سے متعلق ایک پروگرام کے لیے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ افتخار چودھری کو ایک خط لکھا تھا جس میں چیف جسٹس کے نام کے ساتھ جسٹس کا لفظ نہیں لکھا تھا اس پر عدالت عالیہ نے جیو کی پروڈیوسر اور دوسرے افراد کو توہین عدالت کرنے کے الزام میں نوٹس جاری کردیے تھے۔ اس مقدمہ کی گزشتہ سماعت میں پروڈیوسر نے عدالت عالیہ سے معافی مانگ لی تھی۔ تاہم اس موقع پر پنجاب کے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت سے کہا کہ جیو ٹیلی وژن نے ہائی کورٹ کی پرانی عمارت کے حصے گرائے جانے پر اور ایک وکیل کے چیف جسٹس کے کمرے میں خود کو آگ لگانے پر جو رپورٹیں نشر کیں تھیں وہ بھی توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہیں۔ اس پر عدالت عالیہ نے جیو ٹی وی چینل کو ان نشر کی گئی رپوٹوں کی فٹیج عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم آج جیو کی طرف سے یہ فوٹیج عدالت میں پیش نہیں کیے گئے اور اس کے لیے مزید وقت مانگا گیا۔ آج عدالت نے جیو ٹی وی چینل کو اپنا چارٹر اور ان رپورٹوں کی فوٹیج ایک ماہ تک عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی اور حکم دیا کہ ٹی وی چینل ہائی کورٹ کی عمارت کو گرانے سے متعلق کوئی رپورٹ نشر نہ کرے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||