BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہتک عزت قانون کے خلاف احتجاج

صحافیوں نے خدشات کا اظہار کیا ہے
مجوزہ قانون پر صحافیوں نے خدشات کا اظہار کیا ہے
پاکستان میں ہتک عزت کے مجوزہ قانون کے خلاف اتوار کے روز اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی کے صحافیوں کی تنظیم "آر آئی یو جے" نے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے ہتک عزت کے مجوزہ قانون کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے مسترد کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ فی الفور مسودہ قانون واپس لیا جائے۔

نواز رضا جو کہ پریس کلب کے صدر بھی ہیں، کی سربراہی میں کیے جانے والے احتجاجی مظاہرے کے شرکاء نے حکومت کے خلاف نعرہ بازی بھی کی۔ حکومت نے گذشتہ ہفتے کے آخر میں قومی اسمبلی میں ہتک عزت کے قانون میں ترمیم کا بل پیش کیا تھا جس میں الزام تراشی اور بدنام کرنے کی غرض سے شائع کی جانے والی جھوٹی خبریں دینے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی تجویزیں دی گئیں ہیں۔ وہ بل قومی اسمبلی کی متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا ہے۔

بل پیش کرنے کے وقت صحافیوں نے پریس گیلری سے واک آؤٹ کیا تھا جس کے بعد وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے صحافیوں کے نمائندہ وفد سے ملاقات میں انہیں یقین دلایا تھا کہ حکومت ان کے خدشات دور کرے گی۔

بل کے مسودے کے حوالے سے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی جنرل سیکریٹری سی آر شمسی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ کسی اخبار میں شائع ہونے والی خبر کی بنیاد پر مبینہ طور پر متاثرہ شخص خبر کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے فوجداری مقدمہ داخل کراسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے سے موجود ہتک عزت کے قانون کے مطابق تین ماہ کی سزا اور پچاس ہزار روپوں تک جرمانہ کیا جاسکتا ہے لیکن ترمیمی بل میں سزا تین سال اور جرمانہ ایک لاکھ روپوں تک کرنے کی تجویز ہے۔

شمسی کے مطابق ہتک عزت کے نافذ قانون کے تحت مقدمہ دیوانی یا سول عدالت میں چلایا جاتا ہے لیکن مجوزہ قانون میں ضابطہ فوجداری کے تحت مقدمہ سیشن جج چلائیں گے اور دو ماہ کے اندر سزا سنانے کے وہ پابند بھی ہوں گے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ پاکستان میں پہلے سے سولہ ایسے قانون موجود ہیں جو اظہار رائے کی آزادی کے منافی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کا مجوزہ قانون ایک خطرناک قانون ہے جو ان کے بقول صحافت کو مفلوج اور گونگا بنادے گا۔

حکومت کا متعلقہ بل پیش کرتے وقت دعوٰی تھا کہ اس سے اخبارات متاثر نہیں ہوں گے اور اس قانون سے اظہار رائے کی آزادی پر بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
اخباری مالکان کی تنظیم ’اے پی این ایس’ کے سرکردہ رہنما حمید ہارون کا اس قانون کے متعلق کہنا ہے کہ حکومت اس قانون کے ذریعے صحافیوں اور عدالتوں پر زیادہ پابندیاں لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کے لیے مزید اور سخت سزا کی تجویز ہے اور اس طرح عدالتوں کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ جلد از جلد مقدمات کا فیصلہ دیں، چاہے انصاف ہو یا نہ ہو۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد