ہتک عزت، قانون سخت کرنے پر غور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکومت نے قومی اسمبلی میں ایک ایسا مسودہ قانون پیش کیا ہے جس کے تحت ہتک عزت کے قانون کو مزید سخت کرتے ہوئے اس میں نہ صرف سزائیں اور بھاری جرمانے تجویز کیے گئے ہیں بلکہ عدالتوں کو ہتک عزت کے مقدمات پر فیصلے محض دو ماہ میں سنانے کا پابند بنانے کی بھی بات کی گئی ہے۔ حکومت کا دعوٰی ہے کہ اس سے اخبارات متاثر نہیں ہوں گے لیکن آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے عہدیدار حمید ہارون اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت اس قانون کے ذریعے صحافیوں اور عدالتوں پر زیادہ پابندیاں لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کے لیے مزید سزا کی تجویز ہے۔ یعنی حکومت کی نظر میں ہتک عزت پر صحافیوں کے لیے تین ماہ قید کافی نہیں، یہ سزا سال یا اس سے بھی زیادہ ہونی چاہیے۔ اسی طرح عدالتوں کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ جلد از جلد مقدمات کا فیصلہ دیں، چاہے انصاف ہو یا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ چوہدری شجاعت کو ان قوانین پر غور کرنا چاہیے جنہیں لاگو کرنے کی وہ باتیں کرتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ہتک عزت کا قانون تو پہلے سے موجود تھا تو اس میں ترمیم کی کیا ضرورت تھی تو حمید ہارون نے کہا کہ یہ ترمیم ایسے وقت پر کی جارہی ہے جب حکومت کی اپنی کشتی ڈول رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’ملک میں مسائل کی بھرمار ہے، چاہے انسانی حقوق کا شعبہ ہو یا ملکی امن و امان کا معاملہ۔ ایسے حالات میں اس قانون کی ترمیم غیر ضروری ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری کی نظروں میں تو پاکستان کی ساکھ بری سے بہت بری ہو ہی جائے گی لیکن جو کچھ پاکستان آزادی صحافت، سچائی کے ساتھ ہوگا وہ بہت ہی برا ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||