پاکستان میں مظاہرے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں جمعہ کو وکلا اور صحافیوں کی تنظیموں اور متاثرین حکومت کی جانب سے مختلف اوقات پر احتجاجی مظاہرے کیےگئے۔ تاہم وکلا کی جانب سے کوئٹہ اور لاہور میں بھی مظاہرے اور جلسے منعقد ہوئے۔ اسلام آباد میں جمعہ کی صبح سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کی جانب سے عدالت اعظمیٰ کے سامنے بلوچستان اور قبائلی علاقے وانا میں جاری مبینہ فوجی آپریشن کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیاگیا۔ جبکہ صحافیوں کی تنظیم نے پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے ویج ایوارڈ پر عملدرآمد کے لیے اور پاک فوج کے چھ حاضر سروس فوجی افسران کی مبینہ طور پر القاعدہ سے تعلقات کے شبہ میں حراست کے خلاف ان کے اہل خانہ نے مظاہرہ کیا۔ پاکستان میں وکلاء تنظیموں نے بلوچستان اور قبائلی علاقے وانا میں جاری فوجی آپریشن کے خلاف یوم سیاہ منانے کی اپیل کی تھی جس پر اسلام آباد میں پاکستان بار کونسل کے نائب چیئرمین رشید رضوی اور سپریم کورٹ بار کے صدر طارق محمود کی سربراہی میں عدالت اعظمیٰ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ وکلاء کے مظاہرے کے شرکاء نے فوجی آپریشن بند کرنے اور فوج کو واپس بیرکوں میں بھیجنے، تہتر کے آئین کی بحالی اور سپریم کورٹ میں جونیر ججوں کی تقرری ختم کرنے کے مطالبے کیے۔ بلوچستان بار کی جانب سے کوئٹہ میں وکلاء نے صوبے میں جاری آپریشن کے خلاف احتـجاجی مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں فوجی چھاؤنیوں کی تعمیر روکی جائے، گرفتار کارکنوں کو رہا کیا جائے اور سیاسی رہنماؤں کے خلاف مقدمات واپس لیے جائیں۔ یاد رہے کہ بلوچستان میں فوجی کارروائی کے متعلق حکومت یہ کہہ کر تردید کرتی رہی ہے کہ وہاں بعض شرپسند اور شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ جبکہ بلوچستان کی قوم پرست سیاسی جماعتیں اسے عوام کے خلاف فوجی آپریشن کہتی ہیں جو ان کے بقول فوجی چھاؤنیوں کی تعمیر کے خلاف اور صوبے کے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں بھی وکلاء نے سیاہ جھنڈے لہرائے اور بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھی اور ایک احتجاجی جلسہ بھی منعقد کیا جس میں بلوچستان میں فوجی آپریشن فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اسلام آباد میں دوسرا مظاہرہ صحافیوں کی ایک تنظیم کی جانب سے پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے کیا گیا جس کا مقصد صحافیوں کے لیے ملکی قانون کے مطابق دیے گئے ’ویج ایوارڈ، یعنی اجرتوں کے تعین کے متعلق حکم پر عمل کرانا تھا۔ مظاہرے میں شریک صحافیوں نے حکومت اور اخباری مالکان کے خلاف نعرے لگائے اور مطالبہ کیا کہ قومی اسمبلی سے اتفاق رائے سے منظور کردہ اس قرارداد جس میں اخبارات کو جاری ہونے والے سرکاری اشتہارات ’ویج ایوارڈ، پر عمل درآمد سے مشروط کرنے کا کہا گیا تھا، اس پر فوری عمل کرایا جائے۔ صحافیوں نے اس موقعہ پر حکومت کے خلاف نعرے بھی لگائے۔ ’پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، کے ایک دھڑے کے مرکزی رہنما سی آر شمسی نے اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ حکومت اخباری مالکان سے مل چکی ہے لہٰذا وہ ویج ایوارڈ پر عمل درآمد کے لیے پھر سے ملک بھر میں احتجاجی تحریک شروع کر رہے ہیں۔ ہر پانچ سال کے لیے حکومت ویج ایوارڈ کے ذریعے اخبارات میں کام کرنے والے ملازمین کی اجرتوں کا تعین کرتی ہے۔ اس مرتبہ دیے گئے ایوارڈ پر عمل کرنے سے اخباری مالکان کی تنظیم یہ کہہ کر انکار کرتی رہی ہے کہ غیر صحافی یعنی ڈرائیور، کلرک اور نائب قاصدوں وغیرہ کو ویج ایوارڈ سے علحدہ کیا جائے۔ اسلام آباد میں ایک اور مظاہرہ مبینہ طور پر القائدہ سے تعلقات کے شبہ میں گرفتار کیے گئے چھ حاضر سروس فوجی افسران کی حراست کے خلاف تھا جو ان کے اہل خانہ نے لال مسجد کے باہر بعد نماز جمعہ کیا۔ دو کرنل، عبدالغفار اور خالد محمود، تین میجر عبدالقدوس، عطاءاللہ وٹو اور روحیل فراز جبکہ ایک کیپٹن ڈاکٹر عثمان ظفر کو ڈیڑھ سے ایک سال کے عرصہ سے حکومت کی حراست میں ہیں۔ مظاہرے میں زیر حراست افسران کے چھوٹے بچے بھی شامل تھے جو روتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کر رہے تھے کہ ہمارے ابو کو رہا کریں۔ اس موقعہ پر متاثرہ خاندانوں کی خواتین نے میگا فون پر خطاب کرتے ہوئے اسامہ بن لادن اور ملا عمر کو ولی اللہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے ساتھ جینا مرنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے بقول وہ حق کے راستے پر ہیں۔ خواتین مقررین نے امریکہ کے صدر بش اور پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف پر کڑی تنقید کی اور الزام لگایا کے پاکستان کو حکمرانوں نے امریکی کالونی بنادیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||