BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 January, 2005, 00:38 GMT 05:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قوم پرستوں کی کال پر جزوی ہڑتال

News image
سوئی میں متوقع فوجی آپریشن کے خلاف قوم پرستوں نے ہڑتال کی اپیل کی تھی۔
پاکستان کے صوبہ سندھ کی چھ قوم پرست جماعتوں کی اپیل پر صوبے کے بعض شہروں میں جزوی ہڑتال کی گئی جبکہ بڑے شہروں کراچی اور حیدرآباد کے زیادہ تر علاقوں میں صورتحال معمول کے مطابق رہی۔

صوبہ بلوچستان میں امکانی فوجی کارروائی کے خلاف اور بلوچ قوم پرستوں سے اظہار یکجہتی کے لیے پیر چوبیس جنوری کو ہڑتال کی اپیل کی گئی تھی۔اس ہڑتال کی بلوچ قوم پرست رہنماؤں نے بھی حمایت کی تھی۔

ہڑتال کی اپیل کرنے والی جماعتوں میں جیئے سندھ قومی محاذ ( بشیر خان قریشی)، سندھ نیشنل فرنٹ ( ممتاز علی بھٹو)، سندھ ترقی پسند پارٹی ( ڈاکٹر قادر مگسی)، جیئے سندھ محاذ ( عبدالخالق جونیجو)، جیئے سندھ محاذ ( زین شاہ گروپ)، سندھ نیشنل کانگریس ( ڈاکٹر دودو مہیری)، سندھ نیشنل پارٹی ( امیر بھنبھرو) شامل ہیں۔ جبکہ رسول بخش پلیجو کی جماعت نے بھی ہڑتال کی حمایت کی تھی۔

صوبائی انتظامیہ نے ہڑتال کو جزوی جبکہ متعلقہ جماعتوں کے رہنما اسے کامیاب قرار دینے کے دعوے کر رہے ہیں۔ صوبائی محکمہ داخلہ کے وزیر ایم اے رؤف صدیقی ہڑتال کے متعلق کوئی بات کرنے سے گریزاں تھے اور مشورہ دیا کہ صوبائی پولیس چیف یعنی آئی جی سے سرکاری موقف معلوم کریں۔

یاد رہے کہ متعلقہ وزیر کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے ہے جس کے سربراہ الطاف حسین نے کچھ روز قبل بلوچستان میں فوجی کارروائی کی سخت مخالفت کی تھی جبکہ اس جماعت کا ہڑتال کی اپیل کرنے والوں میں شامل جماعت ’جیئے سندھ قومی محاذ، کے ساتھ سیاسی مفاہمت بھی ہے۔

آئی جی سندھ پولیس سید کمال شاہ سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ کراچی کے چند علاقوں جہاں بلوچ اور سندھی آبادی ہے وہاں جزوی طور پر دکانیں بند رہیں۔ ان کے مطابق چند آبادیوں کے علاوہ پورے شہر میں ٹریفک اور کاروبار زندگی معمول پر رہا۔

تاہم انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اندرون سندھ کے بعض اضلاع میں جزوی ہڑتال کی انہیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دادو، نوشہرو فیروز، لاڑکانہ اور خیرپور اضلاع کے بعض شہروں میں کہیں کہیں پتھراؤ وغیرہ بھی کیا گیا۔

ان کے مطابق حیدرآباد میں قاسم آباد کا علاقہ مکمل بند رہا جبکہ شہر کے اندر صورتحال معمول کے مطابق رہی۔

سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی نے حیدرآباد سے فون پر بی بی سی بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ صوبے بھر سے ایک سو کے لگ بھگ کارکنوں کی گرفتاریاں کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق گرفتار کارکنوں کا تعلق ان چھ قوم پرست جماعتوں سے ہے جنہوں نے ہڑتال کی اپیل کر رکھی ہے۔

گرفتاریوں کے متعلق آئی جی سندھ پولیس کا کہنا ہے کہ کچھ گرفتاریاں ہوئی ہیں لیکن ان کی تعداد کے بارے میں تاحال وہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔

کراچی میں مواچھ گوٹھ، ملیر، کھوکھراپار، گلستان جوہر، گلشن حدید، لیاری، سٹیل ٹاؤن، میمن، سچل اور صفوراں گوٹھوں سمیت مختلف علاقوں میں دکانیں بند رہنے، پتھراؤ کرکے گاڑیوں کے شیشے توڑنے اور کچھ دیر کے لیے بعض سڑکیں بند کرنے کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔

ڈاکٹر قادر مگسی کے مطابق ان کی ہڑتال پرامن تھی اور لوگوں نے رضاکارانہ طور پر کاروبار بند رکھ کر ہڑتال کامیاب بنائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اہم پہلو یہ بھی ہے کہ عید الاضحیٰ کے موقع پر مسلسل تین دنوں کی چھٹیوں کے بعد چوتھے روز بھی دکانیں بند رہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد