بلوچستان دھماکے، 30 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے شہر گندھاوا کے قریب ایک دیہات فتح پور میں ایک عرس کے موقع پر ہونے والے دھماکے میں اب تک کم سے کم تیس افراد کے ہلاک اور متعدد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ گندھاوا کے ضلعی رابطہ افسر محمود مری نے بتایا ہے کہ رات کے وقت جب لنگر تقسیم کیا جا رہا تھا تو اس وقت اچانک دھماکہ ہوا ہے ۔ ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ دھماکے میں کم سے کم چوبیس افراد ہلاک اور سترہ زخمی ہو ئے ہیں۔ گندھاوا کوئٹہ سے کوئی تین سو کلومیٹر دور جنوب میں واقع ہے۔ یہ عرس سائیں رکھیل شاہ اور سائیں چیزل شاہ جو باپ بیٹے بتائے گئے ہیں، کی یاد میں کافی عرصہ سے ہر سال منایا جاتا ہے۔ اس عرس میں ہزاروں افراد شریک تھے اور ضلعی رابطہ افسر نے کہا ہے کہ اس طرح کا واقعہ یہاں پہلے کبھی نہیں ہوا ہے۔ گندھاوا سے آمدہ اطلاعات کے مطابق دھماکے کے بعد لاشیں بکھری پڑی تھیں اور کئی لوگ زخمی ہو گئے تھے اور ہر طرف بھگدڑ مچ گئی تھی۔ یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ نا معلوم افراد نے اس جگہ پر دو بم نصب کیے تھے لیکن ایک ہی بم پھٹا ہے جبکہ دوسرے بم کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔ بلوچستان میں سیاسی بے چینی بھی ہے اور فرقہ ورانہ منافرت بھی لیکن گندھاوا میں فرقہ ورانہ منافرت دیکھے میں نہیں آئی اور اس علاقے میں یہ اس طرح کا پہلا واقع ہے۔ ابھی تک کسی گروہ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ اس کے علاوہ ادھر تربت میں دو دھماکے ہوئے ہیں جن میں کم سے کم چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ دونوں دھماکے کوئی دس منٹ کے وقفے سے ہوئے ہیں۔ تربت سے آمدہ اطلاعات کے مطابق پہلا دھماکہ کمشنری بازار میں فرنٹیئر کور کے کیمپ کے قریب ہوا ہے جبکہ دوسرا دھماکہ تھانہ روڈ پر ہوا ہے جس میں چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں محکمہ آبپاشی کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||