BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 March, 2005, 17:52 GMT 22:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میرے پاس کوئی حل نہیں ہے: بگتی
بلوچستان
فرنٹیئر کور کے کمانڈر کو امید ہے کہ یہ وفد فوجیوں کا محاصرہ کیے ہوئے قبائلیوں کو واپس جانے پر راضی کر لے گا
بگتی قبیلے کے سردار اکبر بگتی نے کہا کہ وہ بلوچستان میں جاری کشیدگی کی فضا کو ختم کرنے کا کوئی فارمولہ نہیں دیں گے۔

پارلیمانی وفد اور صحافیوں سے ڈیرہ بگتی میں بات چیت کرتے ہوئے اکبر بگتی نے کہا کہ مسلئے کا حل بھی وہی پیش کریں جنہوں نے مسئلہ کھڑا کیا ہے۔

پارلیمانی اراکین کا وفد بگتی قبیلے کے علاقے کے دورے پر ہے اس دورے کا مقصد ’حقائق کا کھوج‘ لگانا ہے۔

اکبر بگتی نے حکمران جماعت کے صدر شجاعت حسین کے ساتھ ملاقات کا اشارہ دیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس نے جنہوں نے ڈیرہ بگتی کا دورہ کیا، بتایا ہے کہ کشیدگی اپنے انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔

اکبر بگتی نے کہا کہ جعمرات کے واقع کے بعد وہ پاکستان فوج کو اپنا اور اپنی قوم کا دشمن سمجھتے ہیں۔

ڈیرہ بگتی جانے والے صحافیوں کے وفد کو فرنٹیئر کور کے کمانڈر بریگیڈیئر سلیم نواز نے سوئی میں بتایا کہ ’ حالات پر جلد از جلد قابو پانے کی ضرورت ہے تاکہ ممکنہ بحران سے بچا جا سکے‘

بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگتی میں مقامی مسلح قبائیلیوں نے فرنٹئیر کانسٹیبلری کے تین سو زائد اہلکار کو ایک قلعے میں محصور کر رکھا ہے۔

فرنٹیئر کور کے کمانڈر نے کہا کہ ان کے پاس مکمل طاقت ہے کہ ہم انہیں ختم کر سکیں لیکن حالات کو بگڑنے سے بچانے کے لیے ہم مکمل محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

اکبر بگتی بلوچستان کے طاقتور بگتی قبیلے کے سردار ہیں اور وہ بلوچستان کی خود مختاری اور سوئی گیس کی رائلٹی میں زیادہ حصے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

یہ وفد سردار اکبر بگتی کے اس دعویٰ کی صداقت کا جائزہ لینے کی کوشش کرے گا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ نیم فوجی دستوں کی فائرنگ سے ان کے قبیلے کے پچاس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پاکستانی حکام اس دعوی کو جھوٹ قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ مرنے والے افراد کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔

News image
’سکیورٹی دستوں نے دانستہ طور پر ان جھڑپوں کا آغاز کیا تا کہ علاقے میں فوجی آپریشن کا جواز پیدا کیا جا سکے‘

پندرہ رکنی وفد میں حکومت اور اپوزیشن کے اراکین کے علاوہ اخبار نویسوں کا ایک گروپ بھی شامل ہے۔ فرنٹیئر کور کے کمانڈر کو امید ہے کہ یہ وفد فوجیوں کا محاصرہ کیے ہوئے قبائلیوں کو واپس جانے پر راضی کر لے گا۔

پاکستانی حکام بگتی پر حالیہ جھڑپوں کو ہوا دینے کا الزام عائد کرتے ہیں اور اس سلسلے میں اکبر بگتی پر قتل کا ایک مقدمہ بھی قائم کیا گیا ہے۔

اکبر بگتی اس الزام سے انکار کرتے ہیں کہ ان کے آدمیوں نے فوجی قافلے پر حملہ کیا اور ان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی دستوں نے دانستہ طور پر ان جھڑپوں کا آغاز کیا تا کہ علاقے میں فوجی آپریشن کا جواز پیدا کیا جا سکے۔

ڈیرہ بگتی جانے والے وفد میں شامل بی بی سی کے نمائندے ظفر عباس کا کہنا ہے کہ انہوں نے سوئی سے ڈیرہ بگتی تک سینکڑوں قبائلیوں کو سڑک کے کنارے صف بندی کیے ہوئے دیکھا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وفد کے قافلے کو کسی نے نہیں روکا لیکن اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ اکبر بگتی نے قبائلیوں کو وفد کی آمد کے بارے میں پہلے سے ہی مطلع کر دیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ پانچ دن میں یہ پہلا موقع ہے کہ انہوں نے اس سرک پر سفر کیا ہو اور ان پر حملہ نہ ہوا ہو۔ بی بی سی کے نمائندے کا یہ بھی کہنا ہے کہ حالات اتنے کشیدہ ہیں کہ کبھی بھی جھڑپیں شروع ہو سکتی ہیں۔

بلوچستان میں گزشتہ ہفتے ہونے والی جھڑپوں کے بعد نیم فوجی دستوں کے تین سو سے زیادہ اہلکار قبائلیوں کے گھیرے میں ہیں۔ ان جھڑپوں میں اب تک تیئیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

بلوچستانبلوچستان باغی کیوں؟
ستاون برس میں پانچ بغاوتیں: خصوصی ضمیمہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد