پارلیمانی وفد ڈیرہ بگتی جائے گا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت اور حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ کا ایک مشترکہ وفد منگل کو بلوچستان کے علاقے سوئی اور ڈیرہ بگتی جائے گا جہاں امکان ہے کہ ممبران پارلیمنٹ نواب اکبر بگتی سے بھی ملاقات کریں گے۔ مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے بلوچستان کے مسئلے پر پارلیمنٹ کی کمیٹی کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ انہیں صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس مشترکہ وفد کو تمام تر مدد اور اختیارات فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کی ان درخواستوں کو منظور کر لیا ہے جن میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ بلوچستان میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہو گا اور فوج اپنی پہلی پوزیشن پر واپس چلی جائے گی اور تمام معاملات پارلیمنٹ کے ذریعے حل کیے جائیں گے۔ چوہدری شجاعت نے کہا کہ حکومت کو اس بات کا ادراک ہے کہ بلوچستان میں 1977 جیسے حالات دوبارہ نہ پیدا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے مسئلے پر ان کی صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات ہوئی ہے جس کے بعد وزیر اعظم شوکت عزیز بھی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں آئے۔ ان کے مطابق صدر اور وزیراعظم نے کہا ہے کہ یہ کسی کی انا اور ضد کا مسئلہ نہیں ہے اور پالیمنٹ کے ذریعے تمام مسائل کا حل نکالا جائے گا۔ سوئی اور ڈیرہ بگتی جانے والی کمیٹی میں مسلم لیگ،پاکستان پیپلز پارٹی،متحدہ قومی موومنٹ، دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل اور چند قوم پرست جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ شامل ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||